Back to Surahs

الأحزاب

Al-Ahzab

متحد گروہ73 Verses76 Hadithsmadinah

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

✦
33:1
يَـٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلنَّبِىُّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
ٱتَّقِ
تقوی اختیار کیجیے
ٱللَّهَ
اللہ کا
وَلَا
اور نہ
تُطِعِ
اطاعت کیجیے
ٱلۡكَـٰفِرِينَ
کافروں کی
وَٱلۡمُنَـٰفِقِينَ‌ۗ
اور منافقوں کی
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
كَانَ
ہے
عَلِيمًا
علم والا
حَكِيمًا
حکمت والا
١
(اے نبی ﷺ !) اللہ کا تقویٰ اختیار کیجیے اور کافرین و منافقین کی باتیں نہ مانیے۔ یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا کمال حکمت والا ہے۔
33:2
وَٱتَّبِعۡ
اور پیروی کیجیے
مَا
اس کی جو
يُوحَىٰٓ
وحی کی جاتی ہے
إِلَيۡكَ
آپ کی طرف
مِن
طرف سے
رَّبِّكَ‌ۚ
آپ کے رب کی
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ ہے
كَانَ
ساتھ اس کے
بِمَا
جو
تَعۡمَلُونَ
تم عمل کرتے ہو
خَبِيرًا
خبر رکھنے والا
٢
اور آپ ﷺ پیروی کیجیے اس (ہدایت) کی جو آپ ﷺ کی طرف وحی کی جا رہی ہے آپ ﷺ کے رب کی جانب سے۔ یقینا اللہ ان سب باتوں سے باخبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
33:3
وَتَوَكَّلۡ
اور توکل کیجیے
عَلَى
پر
ٱللَّهِ‌ۚ
اللہ
وَكَفَىٰ
اور کافی ہے
بِٱللَّهِ
اللہ تعالیٰ
وَكِيلاً
کارساز
٣
اور آپ ﷺ اللہ پر توکل ّکیجیے۔ اور اللہ کافی ہے توکل کے لیے۔
33:4
مَّا
نہیں
جَعَلَ
بنائے
ٱللَّهُ
اللہ نے
لِرَجُلٍ
کسی شخص کے لیے
مِّن
میں سے
قَلۡبَيۡنِ
دو دلوں
فِى
میں
جَوۡفِهِۦ‌ۚ
اس کے پیٹ
وَمَا
اور نہیں
جَعَلَ
اس نے بنائیں
أَزۡوٰجَكُمُ
تمہاری بیویاں
ٱلَّــٰٓــِٔى
وہ جو
تُظَـٰهِرُونَ
تم ظہار کرتے ہو
مِنۡهُنَّ
ان سے
أُمَّهَـٰتِكُمۡ‌ۚ
مائیں تمہاری
وَمَا
اور نہیں
جَعَلَ
بنایا
أَدۡعِيَآءَكُمۡ
تمہارے منہ بولے بیٹوں کو
أَبۡنَآءَكُمۡ‌ۚ
بیٹے تمہارے
ذٰلِكُمۡ
یہ
قَوۡلُكُم
بات ہے تمہاری
بِأَفۡوٰهِكُمۡ‌ۖ
ساتھ تمہارے مونہوں کے
وَٱللَّهُ
اور اللہ تعالیٰ
يَقُولُ
فرماتا ہے
ٱلۡحَقَّ
حق۔ کہتا ہے حق
وَهُوَ
اور وہی
يَهۡدِى
رہنمائی کرتا ہے
ٱلسَّبِيلَ
راستے کی۔ طریقے کی۔ (سیدھا)
٤
اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے۔ اور نہ اس نے تمہاری ان بیویوں کو تمہاری مائیں بنایا ہے جن سے تم ظہار کر بیٹھتے ہو۔ ور نہ ہی اس نے تمہارے ُ منہ بولے بیٹوں کو تمہارے بیٹے بنایا ہے۔ یہ سب تمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں۔ اور اللہ حق کہتا ہے اور وہی سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔
33:5
ٱدۡعُوهُمۡ
پکارو ان کو
لِأَبَآئِهِمۡ
ان کے باپوں کے لیے
هُوَ
وہ
أَقۡسَطُ
زیادہ انصاف والا ہے
عِندَ
نزدیک
ٱللَّهِ‌ۚ
اللہ کے
فَإِن
پھر اگر
لَّمۡ
نہیں
تَعۡلَمُوٓاۡ
تم جانو
ءَابَآءَهُمۡ
ان کے باپوں کو
فَإِخۡوٰنُكُمۡ
تو بھائی ہیں تمہارے
فِى
میں
ٱلدِّينِ
دین
وَمَوٰلِيكُمۡ‌ۚ
اور دوست تمہارے
وَلَيۡسَ
اور نہیں
عَلَيۡكُمۡ
تم پر
جُنَاحٌ
کوئی گناہ
فِيمَآ
اس معاملے میں جو
أَخۡطَأۡتُم
خطا کی تم نے
بِهِۦ
ساتھ اس کے
وَلَـٰكِن
لیکن
مَّا
جو
تَعَمَّدَتۡ
جان بوجھ کر ارادہ کریں
قُلُوبُكُمۡ‌ۚ
دل تمہارے
وَكَانَ
اور ہے
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ
غَفُورًا
غفور
رَّحِيمًا
رحیم
٥
(لہٰذا) انہیں پکارا کرو ان کے باپوں کی نسبت سے یہ زیادہ مبنی بر انصاف ہے اللہ کے نزدیک۔ اور اگر تمہیں ان کے باپوں کے بارے میں پتا نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔ اور اس معاملے میں تم سے جو خطا ہوئی ہے اس پر تم سے کوئی مواخذہ نہیں لیکن تم لوگ جو کچھ اپنے دلوں کے ارادے سے کرو گے (اس کا ضرور احتساب ہوگا) اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
33:6
ٱلنَّبِىُّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
أَوۡلَىٰ
قریب تر ہیں
بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ
مومنوں کے
مِنۡ
سے (بڑھ کر)
أَنفُسِهِمۡ‌ۖ
ان کے نفسوں
وَأَزۡوٰجُهُۥٓ
اور آپ کی بیویاں
أُمَّهَـٰتُهُمۡ‌ۗ
ان کی مائیں ہیں
وَأُوۡلُواۡ
اور(رشتہ دار)
ٱلۡأَرۡحَامِ
رحم والے
بَعۡضُهُمۡ
ان میں سے بعض
أَوۡلَىٰ
نزدیک تر ہیں
بِبَعۡضٍ
بعض کے
فِى
میں
كِتَـٰبِ
کتاب
ٱللَّهِ
اللہ کی
مِنَ
میں سے
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
مومنوں
وَٱلۡمُهَـٰجِرِينَ
اور مہاجرین میں سے
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
تَفۡعَلُوٓاۡ
تم کرو
إِلَىٰٓ
طرف
أَوۡلِيَآئِكُم
اپنے دوستوں کے
مَّعۡرُوفًا‌ۚ
کوئی بھلائی ہے
كَانَ
یہ
ذٰلِكَ
بات
فِى
میں
ٱلۡكِتَـٰبِ
کتاب
مَسۡطُورًا
لکھی ہوئی
٦
یقینا نبی ﷺ کا حق مومنوں پر خود ان کی جانوں سے بھی زیادہ ہے اور نبی ﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ اور رحمی رشتے رکھنے والے اللہ کی کتاب کے مطابق مومنین و مہاجرین کی نسبت ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں سوائے اس کے کہ تم لوگ اپنے دوستوں کے ساتھ کوئی حسن سلوک کرنا چاہو۔ } یہ سب باتیں (پہلے سے) کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔
33:7
وَإِذۡ
اور جب
أَخَذۡنَا
لیا ہم نے
مِنَ
سے
ٱلنَّبِيِّــۧنَ
نبیوں
مِيثَـٰقَهُمۡ
پختہ عہد ان کا
وَمِنكَ
اور آپ سے
وَمِن
اور سے
نُّوحٍ
نوح
وَإِبۡرٰهِيمَ
اور ابراہیم سے
وَمُوسَىٰ
اور موسیٰ سے
وَعِيسَى
اور عیسیٰ
ٱبۡنِ
ابن
مَرۡيَمَ‌ۖ
مریم سے
وَأَخَذۡنَا
اور لیا ہم نے
مِنۡهُم
ان سے
مِّيثَـٰقًا
عہد
غَلِيظًا
پختہ۔ پکا
٧
اور (یاد کرو) جب ہم نے ابنیاء سے ان کا عہد لیا تھا اور آپ ﷺ سے بھی اور نوح ؑ ابراہیم موسیٰ ؑ ٰ اور عیسیٰ ؑ ٰ ابن مریم سے بھی۔ اور ان سب سے ہم نے بڑا گاڑھا قول وقرار لیا تھا۔
33:8
لِّيَسۡــَٔلَ
تاکہ وہ سوال کرے
ٱلصَّـٰدِقِينَ
سچوں سے
عَن
بارے میں
صِدۡقِهِمۡ‌ۚ
ان کے سچ کے
وَأَعَدَّ
اور اس نے تیار کیا
لِلۡكَـٰفِرِينَ
کافروں کے لیے
عَذَابًا
عذاب
أَلِيمًا
دردناک
٨
تا کہ اللہ پوچھ لے سچے لوگوں سے ان کے سچ کے بارے میں۔ اور اس نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ایک دردناک عذاب۔
33:9
يَـٰٓأَيُّهَا
اے وہ
ٱلَّذِينَ
لوگو جو
ءَامَنُواۡ
ایمان لائے ہو
ٱذۡكُرُواۡ
یاد کرو
نِعۡمَةَ
نعمت کو
ٱللَّهِ
اللہ کی
عَلَيۡكُمۡ
جو تم پر ہے
إِذۡ
جب
جَآءَتۡكُمۡ
آئے تمہارے پاس
جُنُودٌ
لشکر
فَأَرۡسَلۡنَا
تو بھیجی ہم نے
عَلَيۡهِمۡ
ان پر
رِيحًا
ایک آندھی۔ ہوا
وَجُنُودًا
اور کچھ لشکر
لَّمۡ
نہیں
تَرَوۡهَا‌ۚ
تم نے دیکھا ان کو
وَكَانَ
اور ہے
ٱللَّهُ
اللہ تعا لیٰ
بِمَا
ساتھ اس کے
تَعۡمَلُونَ
جو تم عمل کرتے ہو
بَصِيرًا
دیکھنے والا
٩
اے اہل ِایمان ! یاد کرو اللہ کے اس انعام کو جو تم لوگوں پر ہو جب تم پر حملہ آور ہوئے بہت سے لشکرتو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی اور ایسے لشکر بھی جو تم نے نہیں دیکھے۔ } اور جو کچھ تم لوگ کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔
33:10
إِذۡ
جب
جَآءُوكُم
وہ آئے تمہارے پاس
مِّن
سے
فَوۡقِكُمۡ
تمہارے اوپر
وَمِنۡ
اور سے
أَسۡفَلَ
نیچے کی طرف
مِنكُمۡ
تمہارے
وَإِذۡ
اور جب
زَاغَتِ
کج ہوگئیں
ٱلۡأَبۡصَـٰرُ
نگاہیں۔ پھر گئیں نگاہیں
وَبَلَغَتِ
اور پہنچ گئے
ٱلۡقُلُوبُ
دل
ٱلۡحَنَاجِرَ
حلق کو
وَتَظُنُّونَ
اور تم گمان کر رہے تھے
بِٱللَّهِ
اللہ کے بارے میں
ٱلظُّنُونَاۡ
بہت سے گمان
١٠
جب وہ (لشکر) آئے تم پر تمہارے اوپر سے بھی اور تمہارے نیچے سے بھی اور جب (خوف کے مارے) نگاہیں پتھرا گئی تھیں اور دل حلق میں آگئے تھے اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔
33:11
هُنَالِكَ
اسی جگہ
ٱبۡتُلِىَ
آزمائے گئے
ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
سب مومن
وَزُلۡزِلُواۡ
اور ہلا مارے گئے
زِلۡزَالاً
ہلا مارا جانا
شَدِيدًا
شدت کا
١١
اس وقت اہل ایمان کو خوب آزما لیا گیا اور وہ شدت کے ساتھ جھنجھوڑ ڈالے گئے
33:12
وَإِذۡ
اور جب
يَقُولُ
کہہ رہے تھے
ٱلۡمُنَـٰفِقُونَ
منافق
وَٱلَّذِينَ
اور وہ لوگ
فِى
میں
قُلُوبِهِم
ان کے دلوں
مَّرَضٌ
بیماری تھی
مَّا
نہیں
وَعَدَنَا
وعدہ کیا ہم سے
ٱللَّهُ
اللہ نے
وَرَسُولُهُۥٓ
اور اس کے رسول نے
إِلَّا
مگر
غُرُورًا
دھوکے کا
١٢
اور جب کہہ رہے تھے منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا کہ نہیں وعدہ کیا تھا ہم سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مگر دھوکے کا۔
33:13
وَإِذۡ
اور جب
قَالَت
کہا تھا
طَّآئِفَةٌ
ایک گروہ نے
مِّنۡهُمۡ
ان میں سے
يَـٰٓأَهۡلَ
اے اہل
يَثۡرِبَ
یثرب
لَا
نہیں
مُقَامَ
کھڑے ہونے کی جگہ
لَكُمۡ
تمہارے لیے
فَٱرۡجِعُواۡ‌ۚ
پس پلٹ چلو۔ لوٹ چلو
وَيَسۡتَــٔۡذِنُ
اور اجازت مانگ رہا تھا
فَرِيقٌ
ایک گروہ
مِّنۡهُمُ
ان میں سے
ٱلنَّبِىَّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے
يَقُولُونَ
وہ کہہ رہے تھے
إِنَّ
بیشک
بُيُوتَنَا
ہمارے گھر
عَوۡرَةٌ
غیر محفوظ ہیں۔ کھلے ہیں
وَمَا
حالانکہ نہیں تھے
هِىَ
وہ
بِعَوۡرَةٍ‌ۖ
کھلے۔ غیر محفوظ
إِن
نہیں
يُرِيدُونَ
وہ چاہتے تھے
إِلَّا
مگر
فِرَارًا
فرار ہونا۔ بھاگنا
١٣
اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے اہل ِیثرب ! اب تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں چناچہ تم لوٹ جائو اور ان میں سے ایک گروہ نبی ﷺ سے اجازت طلب کر رہا تھا وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں۔ حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے۔ } حقیقت میں وہ کچھ نہیں چاہتے تھے سوائے فرار کے۔
33:14
وَلَوۡ
اور اگر
دُخِلَتۡ
داخل کیے جاتے
عَلَيۡهِم
ان پر
مِّنۡ
سے
أَقۡطَارِهَا
ان کے اطراف
ثُمَّ
پھر
سُئِلُواۡ
وہ سوال کیے جاتے
ٱلۡفِتۡنَةَ
فتنے کا
لَأَتَوۡهَا
البتہ وہ آجائے اس کی طرف۔ اس کو
وَمَا
اور نہ
تَلَبَّثُواۡ
وہ انتظار کرتے
بِهَآ
اس کا
إِلَّا
مگر
يَسِيرًا
بہت تھوڑا
١٤
اور اگر کہیں ان پر دشمن گھس آئے ہوتے مدینہ کے اطراف سے پھر ان سے مطالبہ کیا جاتا فتنے (ارتداد) کا تو وہ اسے قبول کرلیتے اور اس میں بالکل توقف نہ کرتے مگر تھوڑا سا۔
33:15
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
كَانُواۡ
انہوں نے
عَـٰهَدُواۡ
عہد کیا تھا
ٱللَّهَ
اللہ سے
مِن
اس سے
قَبۡلُ
پہلے
لَا
نہیں
يُوَلُّونَ
وہ پھیریں گے
ٱلۡأَدۡبَـٰرَ‌ۚ
پیٹھیں
وَكَانَ
اور ہے
عَهۡدُ
عہد
ٱللَّهِ
اللہ کا
مَسۡــُٔولاً
پوچھا جانے والا
١٥
حالانکہ اس سے قبل وہ اللہ سے وعدہ کرچکے تھے کہ وہ کبھی پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ } اور اللہ سے کیے گئے عہد کی باز پرس تو ہونی ہے۔
33:16
قُل
کہہ دیجیے
لَّن
ہرگز نہیں
يَنفَعَكُمُ
فائدہ دے گا تم کو
ٱلۡفِرَارُ
بھاگنا
إِن
اگر
فَرَرۡتُم
بھاگے تم
مِّنَ
سے
ٱلۡمَوۡتِ
موت
أَوِ
یا
ٱلۡقَتۡلِ
قتل سے
وَإِذًا
اور تب
لَّا
نہ
تُمَتَّعُونَ
تم فائدہ دیئے جاؤ گے
إِلَّا
مگر
قَلِيلاً
بہت تھوڑا
١٦
(اے نبی ﷺ ! ان سے) کہہ دیجیے کہ تمہارا یہ بھاگنا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا اگر تم لوگ موت یا قتل سے بھاگ رہے ہو } اور (اگر بھاگو گے) تب بھی تم (زندگی کے سازوسامان سے) فائدہ نہیں اٹھا سکو گے مگر تھوڑا سا۔
33:17
قُلۡ
کہہ دیجیے
مَن
کون ہے
ذَا
وہ
ٱلَّذِى
جو
يَعۡصِمُكُم
بچائے تم کو
مِّنَ
سے
ٱللَّهِ
اللہ
إِنۡ
اگر
أَرَادَ
اس نے ارادہ کیا
بِكُمۡ
تمہارے ساتھ
سُوٓءًا
برائی کا
أَوۡ
یا
أَرَادَ
ارادہ کیا
بِكُمۡ
تمہارے ساتھ
رَحۡمَةً‌ۚ
رحمت کا
وَلَا
اور نہ
يَجِدُونَ
وہ پائیں گے
لَهُم
اپنے لیے
مِّن
سے
دُونِ
سوا
ٱللَّهِ
اللہ کے
وَلِيًّا
کوئی دوست
وَلَا
اور نہ
نَصِيرًا
کوئی مددگار
١٧
آپ ﷺ کہیے کہ کون ہے وہ جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہے اگر وہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ نقصان کا ؟ یا (اُس کی رحمت کو روک سکتا ہے) اگر وہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ رحمت کا ؟ } اور یہ لوگ نہیں پائیں گے اپنے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی مدد گار۔
33:18
۞قَدۡ
تحقیق
يَعۡلَمُ
جانتا ہے
ٱللَّهُ
اللہ
ٱلۡمُعَوِّقِينَ
روکنے والوں کو
مِنكُمۡ
تم میں سے
وَٱلۡقَآئِلِينَ
اور کہنے والوں کو
لِإِخۡوٰنِهِمۡ
اپنے بھائیوں سے
هَلُمَّ
چلے آؤ
إِلَيۡنَا‌ۖ
ہماری طرف
وَلَا
اور نہ
يَأۡتُونَ
آئیں گے
ٱلۡبَأۡسَ
وہ لڑائی کو
إِلَّا
مگر
قَلِيلاً
بہت تھوڑے
١٨
اللہ خوب جانتا ہے تم میں سے ان لوگوں کو جو روکنے والے ہیں اور اپنے بھائیوں سے یہ کہنے والے ہیں کہ ہماری طرف آ جائو } اور وہ نہیں آتے جنگ کی طرف مگر بہت تھوڑی دیر کے لیے۔
33:19
أَشِحَّةً
بخیلی کرتے ہوئے
عَلَيۡكُمۡ‌ۖ
تم پر
فَإِذَا
پھر جب
جَآءَ
آتا ہے
ٱلۡخَوۡفُ
خوف
رَأَيۡتَهُمۡ
تم دیکھتے ہو ان کو
يَنظُرُونَ
وہ نظر کرتے ہیں
إِلَيۡكَ
آپ کی طرف
تَدُورُ
گھومتی ہیں
أَعۡيُنُهُمۡ
آنکھیں ان کی
كَٱلَّذِى
اس شخص کی طرح
يُغۡشَىٰ
ڈھانپ لیا جاتا ہے
عَلَيۡهِ
اس پر
مِنَ
سے
ٱلۡمَوۡتِ‌ۖ
موت
فَإِذَا
پھر جب
ذَهَبَ
چلا جاتا ہے
ٱلۡخَوۡفُ
خوف
سَلَقُوكُم
بد زبانی کرتے ہیں تم سے
بِأَلۡسِنَةٍ
ساتھ زبانوں کے
حِدَادٍ
تیز
أَشِحَّةً
بخیلی کرنے والے
عَلَى
اوپر
ٱلۡخَيۡرِ‌ۚ
بھلائی کے
أُوۡلَـٰٓئِكَ
یہی لوگ
لَمۡ
نہیں
يُؤۡمِنُواۡ
وہ ایمان لائے تو
فَأَحۡبَطَ
ضائع کردیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
أَعۡمَـٰلَهُمۡ‌ۚ
ان کے اعمال کو
وَكَانَ
اور ہے
ذٰلِكَ
یہ بات
عَلَى
پر
ٱللَّهِ
اللہ
يَسِيرًا
بہت آسان
١٩
(اے مسلمانو !) تمہارا ساتھ دینے میں یہ سخت بخیل ہیں تو جب خطرہ پیش آجاتا ہے تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح تاک رہے ہوتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گردش کرتی ہیں اس شخص کی (آنکھوں کی) طرح جس پر موت کی غشی طاری ہو۔ پھر جب خطرہ جاتا رہتا ہے تو وہ تم لوگوں پر چڑھ دوڑتے ہیں اپنی تیز زبانوں سے لالچ کرتے ہوئے مال پر۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حقیقت میں ایمان نہیں لائے تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیے۔ } اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔
33:20
يَحۡسَبُونَ
وہ سمجھتے ہیں
ٱلۡأَحۡزَابَ
گروہوں کو
لَمۡ
نہیں
يَذۡهَبُواۡ‌ۖ
وہ گئے
وَإِن
اور اگر
يَأۡتِ
آجائیں
ٱلۡأَحۡزَابُ
گروہ
يَوَدُّواۡ
وہ چاہیں گے
لَوۡ
کاش کہ
أَنَّهُم
بیشک وہ
بَادُونَ
جنگل میں رہنے والے ہوتے
فِى
میں
ٱلۡأَعۡرَابِ
اعراب
يَسۡــَٔلُونَ
وہ پوچھتے پھرتے ہیں
عَنۡ
کے بارے میں
أَنۢبَآئِكُمۡ‌ۖ
تم لوگوں کے حالات
وَلَوۡ
اور اگر
كَانُواۡ
وہ ہوتے
فِيكُم
تم میں
مَّا
نہ
قَـٰتَلُوٓاۡ
وہ جنگ کرتے
إِلَّا
مگر
قَلِيلاً
بہت کم
٢٠
وہ لشکروں کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ ابھی وہ گئے نہیں ہیں۔ اور اگر لشکر (دوبارہ) حملہ آور ہوجائیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ وہ بدوئوں کے ساتھ صحرا میں رہ رہے ہوتے (اور وہیں سے) تمہاری خبریں معلوم کرتے رہتے۔ } اور اگر وہ تمہارے درمیان رہتے تو قتال نہ کرتے مگر بہت ہی تھوڑا۔
33:21
لَّقَدۡ
البتہ تحقیق
كَانَ
ہے
لَكُمۡ
تمہارے لیے
فِى
میں
رَسُولِ
رسول
ٱللَّهِ
اللہ کے
أُسۡوَةٌ
نمونہ
حَسَنَةٌ
اچھا
لِّمَن
واسطے اس کے
كَانَ
جو ہو
يَرۡجُواۡ
امید رکھتا
ٱللَّهَ
اللہ کی (ملاقات کی)
وَٱلۡيَوۡمَ
اور یوم
ٱلۡأَخِرَ
آخرت کی
وَذَكَرَ
اور یاد کرے
ٱللَّهَ
اللہ کو
كَثِيرًا
بہت
٢١
(اے مسلمانو !) تمہارے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے (یہ اسوہ ہے) ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ملاقات اور آخرت کی امید رکھتا ہو } اور کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتا ہو۔
33:22
وَلَمَّا
اور جب
رَءَا
دیکھا
ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
مومنوں نے
ٱلۡأَحۡزَابَ
گروہوں کو
قَالُواۡ
کہنے لگے
هَـٰذَا
یہ ہے وہ
مَا
جو
وَعَدَنَا
وعدہ کیا ہم سے
ٱللَّهُ
اللہ نے
وَرَسُولُهُۥ
اور اس کے رسول نے
وَصَدَقَ
اور سچ فرمایا
ٱللَّهُ
اللہ نے
وَرَسُولُهُۥ‌ۚ
اور اس کے رسول نے
وَمَا
اور نہیں
زَادَهُمۡ
بڑھایا ان کو
إِلَّآ
مگر
إِيمَـٰنًا
ایمان میں
وَتَسۡلِيمًا
اور سپرد کردینے میں۔ سپردگی میں۔ سونپ دینے میں
٢٢
اور جب اہل ِایمان نے دیکھا ان لشکروں کو تو انہوں نے کہا کہ یہی تو ہے جس کا ہم سے وعدہ کیا تھا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اور بالکل سچ فرمایا تھا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے۔ } اور اس (واقعہ) نے ان میں کسی بھی شے کا اضافہ نہیں کیا مگر ایمان اور فرمانبرداری کا۔
33:23
مِّنَ
میں سے
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
ایمان لانے والوں
رِجَالٌ
کچھ لوگ ہیں
صَدَقُواۡ
انہوں نے سچ کہا۔ سچا کر دکھایا
مَا
جو
عَـٰهَدُواۡ
انہوں نے عہد کیا تھا
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ سے
عَلَيۡهِ‌ۖ
اس پر
فَمِنۡهُم
تو بعض ان میں سے
مَّن
وہ ہے جو
قَضَىٰ
پوری کرچکا
نَحۡبَهُۥ
اپنی نذر
وَمِنۡهُم
اور بعض ان میں سے
مَّن
جو
يَنتَظِرُ‌ۖ
منتظر ہے۔ انتظار کر رہا ہے
وَمَا
اور نہیں
بَدَّلُواۡ
بدلا انہوں نے
تَبۡدِيلاً
بدل دینا (اپنا عہد)
٢٣
اہل ِایمان میں وہ جواں مرد لوگ بھی ہیں جنہوں نے سچا کر دکھایا وہ عہد جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا پس ان میں سے کچھ تو اپنی نذر پوری کرچکے اور ان میں سے کچھ انتظار کر رہے ہیں } اور انہوں نے ہرگز کوئی تبدیلی نہیں کی
33:24
لِّيَجۡزِىَ
تاکہ بدلہ دے
ٱللَّهُ
اللہ
ٱلصَّـٰدِقِينَ
سچوں کو
بِصِدۡقِهِمۡ
ان کی سچائی کا
وَيُعَذِّبَ
اور عذاب دے
ٱلۡمُنَـٰفِقِينَ
منافقوں کو
إِن
اگر
شَآءَ
وہ چاہے
أَوۡ
یا
يَتُوبَ
مہربان ہوجائے
عَلَيۡهِمۡ‌ۚ
ان پر
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
كَانَ
ہے
غَفُورًا
غفور
رَّحِيمًا
رحیم
٢٤
تا کہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا پورا پورا بدلہ دے اور منافقین کو چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے } یقینا اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
33:25
وَرَدَّ
اور پھیر دیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کو
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
بِغَيۡظِهِمۡ
ساتھ ان کے غصے کے
لَمۡ
نہیں
يَنَالُواۡ
انہوں نے پا ئی
خَيۡرًا‌ۚ
کوئی بھلائی
وَكَفَى
اور کافی ہے
ٱللَّهُ
اللہ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
مومنوں کو
ٱلۡقِتَالَ‌ۚ
جنگ میں
وَكَانَ
اور ہے
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ
قَوِيًّا
قوت والا ہے
عَزِيزًا
زبردست
٢٥
اور لوٹا دیا اللہ نے کافروں کو ان کے غصے کے ساتھ ہی وہ کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ اور اللہ کافی رہا اہل ِایمان کی طرف سے قتال کے لیے۔ } اور یقینا اللہ بڑی طاقت والا سب پر غالب ہے۔
33:26
وَأَنزَلَ
اور اس نے اتارا
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کو
ظَـٰهَرُوهُم
جنہوں نے مدد کی ان کی
مِّنۡ
میں سے
أَهۡلِ
اہل
ٱلۡكِتَـٰبِ
کتاب
مِن
سے
صَيَاصِيهِمۡ
ان کی گڑھیوں سے
وَقَذَفَ
اور ڈال دیا
فِى
میں
قُلُوبِهِمُ
ان کے دلوں
ٱلرُّعۡبَ
رعب
فَرِيقًا
ایک گروہ
تَقۡتُلُونَ
کہ تم قتل کر رہے تھے
وَتَأۡسِرُونَ
اور تم قید کر رہے تھے
فَرِيقًا
ایک گروہ کو
٢٦
اور اللہ نے اتار لیا اہل ِکتاب میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے ان (مشرکین) کی مدد کی تھی ان کے قلعوں سے اور ان کے دلوں میں اس نے رعب ڈال دیا } تو اب ان میں سے کچھ کو تم قتل کر رہے ہو اور کچھ کو تم قیدی بنا رہے ہو
33:27
وَأَوۡرَثَكُمۡ
اور اس نے و ارث بنادیا تم کو
أَرۡضَهُمۡ
ان کی زمین کا
وَدِيَـٰرَهُمۡ
اور ان کے گھروں کا
وَأَمۡوٰلَهُمۡ
اور ان کے مالوں کا
وَأَرۡضًا
اور زمین کا
لَّمۡ
نہیں
تَطَــُٔوهَا‌ۚ
تم نے پامال کیا اس کو
وَكَانَ
اور ہے
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ
عَلَىٰ
اوپر
كُلِّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز کے
قَدِيرًا
قدرت رکھنے والا
٢٧
اور اس نے تمہیں وارث بنا دیا ان کی زمینوں ان کے گھروں اور ان کے اموال کا اور اس زمین کا بھی جس پر ابھی تم نے قدم نہیں رکھے۔ } اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔
33:28
يَـٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلنَّبِىُّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
قُل
کہہ دیجیے
لِّأَزۡوٰجِكَ
اپنی بیویوں سے
إِن
اگر
كُنتُنَّ
ہو تم
تُرِدۡنَ
تم چاہتیں
ٱلۡحَيَوٰةَ
زندگی
ٱلدُّنۡيَا
دنیا کی
وَزِينَتَهَا
اور اس کی زینت
فَتَعَالَيۡنَ
تو آؤ
أُمَتِّعۡكُنَّ
میں فائدہ دوں تم کو
وَأُسَرِّحۡكُنَّ
اور میں رخصت کردوں تم کو
سَرَاحًا
رخصت کرنا
جَمِيلاً
اچھے طریقے سے
٢٨
اے نبی ﷺ آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو } تو آئو میں تمہیں کچھ مال و متاع دے کر اچھے طریقے سے رخصت کر دوں
33:29
وَإِن
اور اگر
كُنتُنَّ
ہو تم
تُرِدۡنَ
تم چاہتی ہو
ٱللَّهَ
اللہ کو
وَرَسُولَهُۥ
اور اس کے رسول کو
وَٱلدَّارَ
اور گھر کو
ٱلۡأَخِرَةَ
آخرت کے
فَإِنَّ
تو بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
أَعَدَّ
اس نے تیار کیا ہے
لِلۡمُحۡسِنَـٰتِ
نیکو کار عورتوں کے لیے
مِنكُنَّ
تم میں سے
أَجۡرًا
اجر
عَظِيمًا
بہت بڑا
٢٩
اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی طالب ہو تو (اطمینان رکھو کہ) اللہ نے تم جیسی نیک خواتین کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔
33:30
يَـٰنِسَآءَ
اےعورتو
ٱلنَّبِىِّ
نبی کی
مَن
جو
يَأۡتِ
آئے گی
مِنكُنَّ
تم میں سے
بِفَـٰحِشَةٍ
بےحیائی کو
مُّبَيِّنَةٍ
کھلی
يُضَـٰعَفۡ
دوگنا کیا جائے گا
لَهَا
اس کے لیے
ٱلۡعَذَابُ
عذاب
ضِعۡفَيۡنِ‌ۚ
دوگنا
وَكَانَ
اور ہے
ذٰلِكَ
یہ بات
عَلَى
پر
ٱللَّهِ
اللہ
يَسِيرًا
بہت آسان
٣٠
اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی (بالفرض) کسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرے گی اسے دوگنا عذاب دیاجائے گا۔ } اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔
33:31
۞وَمَن
اور جو کوئی
يَقۡنُتۡ
اطاعت کرے گی
مِنكُنَّ
تم میں سے
لِلَّهِ
اللہ کے لیے
وَرَسُولِهِۦ
اور اس کے رسول کی
وَتَعۡمَلۡ
اور عمل کرے گی
صَـٰلِحًا
اچھے
نُّؤۡتِهَآ
ہم دیں گے اس کو
أَجۡرَهَا
اس کا اجر
مَرَّتَيۡنِ
دوگنا
وَأَعۡتَدۡنَا
اور تیار رکھا ہے ہم نے
لَهَا
اس کے لیے
رِزۡقًا
رزق
كَرِيمًا
کریم
٣١
اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہے گی اور نیک عمل کرے گی تو اسے ہم دوگنا اجردیں گے } اور اس کے لیے ہم نے عزت ّوالا رزق تیار کر رکھا ہے۔
33:32
يَـٰنِسَآءَ
اے بیویو
ٱلنَّبِىِّ
نبی کی
لَسۡتُنَّ
نہیں ہو تم
كَأَحَدٍ
مانند کسی ایک
مِّنَ
سے
ٱلنِّسَآءِۚ
عام کے عورتوں میں سے
إِنِ
اگر
ٱتَّقَيۡتُنَّ
تم نے تقوی اختیار کیا
فَلَا
تو نہ
تَخۡضَعۡنَ
تم نرمی کرنا
بِٱلۡقَوۡلِ
بات میں
فَيَطۡمَعَ
ورنہ طمع رکھ بیٹھے گا
ٱلَّذِى
وہ شخص
فِى
میں
قَلۡبِهِۦ
جس کے دل میں
مَرَضٌ
کوئی بیماری ہے
وَقُلۡنَ
اور کہو
قَوۡلاً
بات
مَّعۡرُوفًا
معروف۔ نیکی کی۔ قاعدے کی۔ بھلی
٣٢
اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو گفتگو میں نرمی پیدا نہ کرو کہ وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے وہ کسی لالچ میں پڑجائے } اور بات کرو معروف انداز میں۔
33:33
وَقَرۡنَ
اور ٹکی رہو
فِى
میں
بُيُوتِكُنَّ
اپنے گھروں (میں)
وَلَا
اور نہ
تَبَرَّجۡنَ
تم اظہار زینت کرو
تَبَرُّجَ
(جیسا کہ) اظہار زینت تھا
ٱلۡجَـٰهِلِيَّةِ
جاہلیت کا
ٱلۡأُولَىٰۖ
پہلی
وَأَقِمۡنَ
اور قائم کرو
ٱلصَّلَوٰةَ
نماز
وَءَاتِينَ
اور دیتی رہو
ٱلزَّكَوٰةَ
زکوۃ
وَأَطِعۡنَ
اور اطاعت کرو
ٱللَّهَ
اللہ کی
وَرَسُولَهُۚۥٓ
اور اس کے رسول کی
إِنَّمَا
کیونکہ
يُرِيدُ
چاہتا ہے
ٱللَّهُ
اللہ
لِيُذۡهِبَ
کہ لے جائے
عَنكُمُ
تم سے
ٱلرِّجۡسَ
گندگی کو۔ ناپاکی کو
أَهۡلَ
اے اہل
ٱلۡبَيۡتِ
بیت
وَيُطَهِّرَكُمۡ
اور پاک کردے تم کو
تَطۡهِيرًا
پاک کرنا
٣٣
اور تم اپنے گھروں میں قرار پکڑو اور مت نکلو بن سنور کر پہلے دور جاہلیت کی طرح اور نماز قائم کرو زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہو۔ } اللہ تو بس یہی چاہتا ہے اے نبی ﷺ کے گھر والو ! کہ وہ دور کر دے تم سے ناپاکی اور تمہیں خوب اچھی طرح پاک کر دے۔
33:34
وَٱذۡكُرۡنَ
اور ذکر کرو۔ یاد کرو۔ بیان کرو
مَا
جو
يُتۡلَىٰ
پڑھا جاتا ہے
فِى
میں
بُيُوتِكُنَّ
تمہارے گھروں (میں)
مِنۡ
سے
ءَايَـٰتِ
آیات میں (سے)
ٱللَّهِ
اللہ کی
وَٱلۡحِكۡمَةِۚ
اور حکمت میں سے
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
كَانَ
ہے
لَطِيفًا
لطیف
خَبِيرًا
باخبر
٣٤
اور یاد کیا کرو جو تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں (سنائی جاتی ہیں) } یقینا اللہ بہت باریک بین ہرچیز سے باخبر ہے۔
33:35
إِنَّ
بیشک
ٱلۡمُسۡلِمِينَ
مسلمان مرد
وَٱلۡمُسۡلِمَـٰتِ
اور مسلمان عورتیں
وَٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اور مومن مرد
وَٱلۡمُؤۡمِنَـٰتِ
اور مومن عورتیں
وَٱلۡقَـٰنِتِينَ
اور فرماں بردار مرد
وَٱلۡقَـٰنِتَـٰتِ
اور فرماں بردار عورتیں
وَٱلصَّـٰدِقِينَ
اور سچے مرد
وَٱلصَّـٰدِقَـٰتِ
اور سچی عورتیں
وَٱلصَّـٰبِرِينَ
اور صبر کرنے والے مرد
وَٱلصَّـٰبِرٰتِ
اور صبر کرنے والی عورتیں
وَٱلۡخَـٰشِعِينَ
اور خشوع کرنے والے مرد
وَٱلۡخَـٰشِعَـٰتِ
اور خشوع کرنے والی عورتیں
وَٱلۡمُتَصَدِّقِينَ
صدقہ دینے والے مرد
وَٱلۡمُتَصَدِّقَـٰتِ
اور صدقہ دینے والی عورتیں
وَٱلصَّـٰٓئِمِينَ
اور روزہ رکھنے والے مرد
وَٱلصَّـٰٓئِمَـٰتِ
اور روزہ رکھنے والی عورتیں
وَٱلۡحَـٰفِظِينَ
حفاظت کرنے والے
فُرُوجَهُمۡ
اپنی شرم گاہوں کی
وَٱلۡحَـٰفِظَـٰتِ
اور حفاظت کرنے والیاں
وَٱلذّٰكِرِينَ
اور ذکر کرنے والے
ٱللَّهَ
اللہ کا
كَثِيرًا
بہت زیادہ
وَٱلذّٰكِرٰتِ
اور ذکر کرنے والیاں
أَعَدَّ
تیار کررکھا ہے
ٱللَّهُ
اللہ نے
لَهُم
ان کے لیے
مَّغۡفِرَةً
مغفرت کو
وَأَجۡرًا
اور اجر کو
عَظِيمًا
بڑے
٣٥
یقینا مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں ور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں } اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
33:36
وَمَا
اور نہیں
كَانَ
ہے
لِمُؤۡمِنٍ
کسی مومن مرد کے لیے
وَلَا
اور نہ
مُؤۡمِنَةٍ
کسی مومن عورت کے لیے
إِذَا
جب
قَضَى
فیصلہ کردے
ٱللَّهُ
اللہ
وَرَسُولُهُۥٓ
اور اس کا رسول
أَمۡرًا
کسی معاملے کا
أَن
کہ
يَكُونَ
ہو
لَهُمُ
ان کے لیے
ٱلۡخِيَرَةُ
کوئی اختیار
مِنۡ
کے
أَمۡرِهِمۡۗ
ان کے معاملے سے
وَمَن
اور جو کوئی
يَعۡصِ
نافرمانی کرے گا
ٱللَّهَ
اللہ کی
وَرَسُولَهُۥ
اور اس کے رسول کی
فَقَدۡ
تو تحقیق
ضَلَّ
وہ بھٹک گیا
ضَلَـٰلاً
بھٹکنا
مُّبِينًا
کھلم کھلا
٣٦
اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لیے روا نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو (پھر بھی انہیں یہ خیال ہو کہ) ان کے لیے اپنے اس معاملے میں کوئی اختیار باقی ہے۔ } اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑگیا۔
33:37
وَإِذۡ
اور جب
تَقُولُ
تم کہہ رہے تھے
لِلَّذِىٓ
اس شخص سے
أَنۡعَمَ
انعام کیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
عَلَيۡهِ
جس پر
وَأَنۡعَمۡتَ
اور انعام کیا تو نے
عَلَيۡهِ
اس پر
أَمۡسِكۡ
روک رکھ
عَلَيۡكَ
اپنے اوپر
زَوۡجَكَ
اپنی بیوی کو
وَٱتَّقِ
اور ڈرو
ٱللَّهَ
اللہ سے
وَتُخۡفِى
اور تم چھپائے ہوئے تھے
فِى
میں
نَفۡسِكَ
اپنے نفس میں۔ اپنے دل میں
مَا
جو
ٱللَّهُ
اللہ
مُبۡدِيهِ
ظاہر کرنے ولا تھا اس کو
وَتَخۡشَى
اور تم ڈر رہے تھے
ٱلنَّاسَ
لوگوں سے
وَٱللَّهُ
حالانکہ اللہ
أَحَقُّ
زیادہ حق دار ہے
أَن
کہ
تَخۡشَـٰهُۖ
تم ڈرو اس سے
فَلَمَّا
پھر جب
قَضَىٰ
پورا کرچکا
زَيۡدٌ
زید
مِّنۡهَا
اس سے
وَطَرًا
حاجت کو
زَوَّجۡنَـٰكَهَا
بیاہ دیا ہم نے آپ کو اس عورت سے
لِكَىۡ
تاکہ
لَا
نہ
يَكُونَ
ہو
عَلَى
پر
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
مومنوں (پر)
حَرَجٌ
کوئی تنگی
فِىٓ
میں
أَزۡوٰجِ
بیویوں کے بارے میں
أَدۡعِيَآئِهِمۡ
اپنے منہ بولے بیٹوں کی
إِذَا
جب
قَضَوۡاۡ
وہ پورا اتر چکیں
مِنۡهُنَّ
ان سے
وَطَرًاۚ
حاجت کو
وَكَانَ
اور ہے
أَمۡرُ
حکم
ٱللَّهِ
اللہ کا
مَفۡعُولاً
ہو کر رہنے والا
٣٧
اور (اے نبی ﷺ !) جب آپ کہتے تھے اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا تھا اور آپ نے بھی انعام کیا تھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ ﷺ اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھے وہ بات جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ ﷺ لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ ﷺ اس سے ڈریں۔ پس جب زید ؓ نے اس سے اپنا تعلق منقطع کرلیا تو اسے ہم نے آپ ﷺ کی زوجیت میں دے دیا تاکہ مومنوں کے لیے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنا تعلق بالکل کاٹ لیں۔ } اور اللہ کا فیصلہ تو پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔
33:38
مَّا
نہیں
كَانَ
ہے
عَلَى
پر
ٱلنَّبِىِّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
مِنۡ
کوئی
حَرَجٍ
حرج
فِيمَا
اس معاملے میں
فَرَضَ
جو مقرر کیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
لَهُۖۥ
اس کے لیے
سُنَّةَ
طریقہ
ٱللَّهِ
اللہ کا
فِى
میں
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں (میں)
خَلَوۡاۡ
جو گزر چکے
مِن
سے
قَبۡلُۚ
اس سے پہلے
وَكَانَ
اور ہے
أَمۡرُ
حکم
ٱللَّهِ
اللہ کا
قَدَرًا
اندازے میں
مَّقۡدُورًا
مقرر کیا ہوا
٣٨
نبی ﷺ پر کوئی مضائقہ نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے فرض کردی ہے اللہ کا یہی طریقہ رہا ہے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو پہلے گزر چکے ہیں۔ } اور اللہ کا فیصلہ قطعی طے شدہ تھا۔
33:39
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
يُبَلِّغُونَ
جو پہنچاتے ہیں
رِسَـٰلَـٰتِ
پیغامات
ٱللَّهِ
اللہ کے
وَيَخۡشَوۡنَهُۥ
اور ڈرتے ہیں اسی سے
وَلَا
اور نہیں
يَخۡشَوۡنَ
ڈرتے
أَحَدًا
کسی ایک سے
إِلَّا
سوائے
ٱللَّهَۗ
اللہ کے
وَكَفَىٰ
اور کافی ہے
بِٱللَّهِ
اللہ
حَسِيبًا
حساب لینے والا
٣٩
وہ (اللہ کے رسول ﷺ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور صرف اسی سے ڈرتے ہیں اور وہ نہیں ڈرتے کسی سے سوائے اللہ کے۔ اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا۔
33:40
مَّا
نہیں
كَانَ
ہیں
مُحَمَّدٌ
محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
أَبَآ
باپ
أَحَدٍ
کسی ایک کے
مِّن
سے
رِّجَالِكُمۡ
تمہارے مردوں میں
وَلَـٰكِن
اور لیکن
رَّسُولَ
رسول ہیں
ٱللَّهِ
اللہ کے
وَخَاتَمَ
اور خاتم
ٱلنَّبِيِّــۧنَۗ
النبین
وَكَانَ
اور ہے
ٱللَّهُ
اللہ
بِكُلِّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز کو
عَلِيمًا
جاننے والا
٤٠
(دیکھو !) محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور سب نبیوں پر مہر ہیں۔ } اور یقینا اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔
33:41
يَـٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلَّذِينَ
لوگو
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے ہو
ٱذۡكُرُواۡ
ذکر کرو
ٱللَّهَ
اللہ کا۔ یاد کرو اللہ کو
ذِكۡرًا
ذکر
كَثِيرًا
بہت زیادہ۔ کثرت سے
٤١
اے اہل ایمان ! اللہ کا ذکر کیا کرو کثرت کے ساتھ۔
33:42
وَسَبِّحُوهُ
اور تسبیح کرو اس کی
بُكۡرَةً
صبح
وَأَصِيلاً
اور شام
٤٢
اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو۔
33:43
هُوَ
وہ اللہ
ٱلَّذِى
وہ ذات ہے
يُصَلِّى
جو رحمت بھیجتا ہے
عَلَيۡكُمۡ
تم پر
وَمَلَـٰٓئِكَتُهُۥ
اور اس کے فرشتے
لِيُخۡرِجَكُم
تاکہ وہ نکالے تم کو
مِّنَ
سے
ٱلظُّلُمَـٰتِ
اندھیروں (سے)
إِلَى
طرف
ٱلنُّورِۚ
روشنی کی (طرف)
وَكَانَ
اور ہے
بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ
مومنوں کے ساتھ
رَحِيمًا
رحم فرمانے والا
٤٣
وہی ہے جو رحمتیں بھیجتا رہتا ہے تم پر اور اس کے فرشتے بھی تاکہ نکالے تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف۔ اور اہل ایمان کے حق میں وہ بہت مہربان ہے۔
33:44
تَحِيَّتُهُمۡ
ان کی پکار۔ ان کی دعا
يَوۡمَ
جس دن
يَلۡقَوۡنَهُۥ
وہ ملیں گے اس سے
سَلَـٰمٌۚ
سلام ہوگی
وَأَعَدَّ
اور اس نے تیار کیا
لَهُمۡ
ان کے لیے
أَجۡرًا
اجر
كَرِيمًا
عزت والا
٤٤
} جس دن وہ اس سے ملیں گے تو ان کی دعا سلام ہوگی اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے بہت با عزت اجر
33:45
يَـٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلنَّبِىُّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
إِنَّآ
بیشک ہم نے
أَرۡسَلۡنَـٰكَ
بھیجا ہم نے آپ کو
شَـٰهِدًا
گواہ بنا کر
وَمُبَشِّرًا
اور خوش خبری دینے والا
وَنَذِيرًا
اور ڈرانے والا
٤٥
اے نبی ﷺ ! یقینا ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہ بنا کر اور بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا
33:46
وَدَاعِيًا
اور بلانے والا
إِلَى
طرف
ٱللَّهِ
اللہ کی (طرف)
بِإِذۡنِهِۦ
ساتھ اس کے اذن کے
وَسِرَاجًا
اور چراغ
مُّنِيرًا
روشن بنا کر
٤٦
اور اللہ کی طرف بلانے والا اس کے حکم سے اور ایک روشن چراغ بنا کر
33:47
وَبَشِّرِ
اور خوش خبری دے دیجئے
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
مومنوں کو
بِأَنَّ
بیشک
لَهُم
ان کے لیے
مِّنَ
طرف سے
ٱللَّهِ
اللہ کی (طرف سے )
فَضۡلاً
فضل
كَبِيرًا
بہت بڑا
٤٧
اور آپ ﷺ اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔
33:48
وَلَا
اور نہ
تُطِعِ
اطاعت کیجیے
ٱلۡكَـٰفِرِينَ
کافروں کی
وَٱلۡمُنَـٰفِقِينَ
اور منافقوں کی
وَدَعۡ
اور چھوڑ دیجیے۔ پرواہ نہ کیجئے
أَذَٮٰهُمۡ
ان کی اذیت رسانی کی
وَتَوَكَّلۡ
اور بھروسہ کیجیے
عَلَى
پر
ٱللَّهِۚ
اللہ (پر)
وَكَفَىٰ
اور کافی ہے
بِٱللَّهِ
اللہ تعالیٰ
وَكِيلاً
کارساز
٤٨
اور آپ ﷺ ان کافروں اور منافقوں کی باتوں کا دھیان نہ کریں اور ان کی ایذا رسانی کو نظر انداز کردیں اور اللہ پر توکل ّکریں۔ اور اللہ کافی ہے (آپ ﷺ کے لیے) مددگار کے طور پر۔
33:49
يَـٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلَّذِينَ
لوگو
ءَامَنُوٓاۡ
جو ایمان لائے ہو
إِذَا
جب
نَكَحۡتُمُ
نکاح کرو تم
ٱلۡمُؤۡمِنَـٰتِ
مومن عورتوں سے
ثُمَّ
پھر
طَلَّقۡتُمُوهُنَّ
طلاق دو تم ان کو
مِن
سے
قَبۡلِ
اس سے پہلے
أَن
کہ
تَمَسُّوهُنَّ
تم چھوؤ ان کو
فَمَا
تو نہیں
لَكُمۡ
تمہارے لیے
عَلَيۡهِنَّ
ان پر۔ ان کے ذمہ
مِنۡ
کوئی
عِدَّةٍ
عدت
تَعۡتَدُّونَهَاۖ
تم شمارو کرو اس کو۔ تم اس کی گنتی پوری کراؤ
فَمَتِّعُوهُنَّ
تو فائدہ دو ان کو
وَسَرِّحُوهُنَّ
اور رخصت کرو ان کو
سَرَاحًا
رخصت کرنا
جَمِيلاً
بھلے طریقے سے
٤٩
اے اہل ایمان ! جب تم مومن خواتین سے نکاح کرو پھر انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ انہیں چھوئو تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کی تم انہیں گنتی پوری کرائو۔ } پس انہیں کچھ دے دلا کر بڑی خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دو۔
33:50
يَـٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلنَّبِىُّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
إِنَّآ
بیشک
أَحۡلَلۡنَا
حلال کردیں ہم نے
لَكَ
آپ کے لیے
أَزۡوٰجَكَ
آپ کی بیویاں
ٱلَّـٰتِىٓ
وہ جو
ءَاتَيۡتَ
دیے آپ نے
أُجُورَهُنَّ
ان کے مہر
وَمَا
اور جن کے
مَلَكَتۡ
مالک ہے
يَمِينُكَ
آپ کا دایاں ہاتھ
مِمَّآ
اس میں سے جو
أَفَآءَ
لوٹایا
ٱللَّهُ
اللہ نے
عَلَيۡكَ
آپ پر
وَبَنَاتِ
اور بیٹیاں
عَمِّكَ
آپ کے چچا کی
وَبَنَاتِ
اور بیٹیاں
عَمَّـٰتِكَ
آپ کی پھوپھیوں کی
وَبَنَاتِ
اور بیٹیاں
خَالِكَ
آپ کے ماموں کی
وَبَنَاتِ
اور بیٹیاں
خَـٰلَـٰتِكَ
آپ کی خالاؤں کی
ٱلَّـٰتِى
وہ
هَاجَرۡنَ
جنہوں نے ہجرت کی
مَعَكَ
تیرے ساتھ
وَٱمۡرَأَةً
اور کوئی عورت
مُّؤۡمِنَةً
مومن
إِن
اگر
وَهَبَتۡ
ہبہ کردے
نَفۡسَهَا
اپنے نفس کو
لِلنَّبِىِّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
إِنۡ
اگر
أَرَادَ
ارادہ کریں
ٱلنَّبِىُّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
أَن
کہ
يَسۡتَنكِحَهَا
نکاح کرنا چاہیں اس سے
خَالِصَةً
خالصتا
لَّكَ
آپ کے لیے ہے
مِن
کے
دُونِ
سوا
ٱلۡمُؤۡمِنِينَۗ
مومنوں کے
قَدۡ
تحقیق
عَلِمۡنَا
جان لیا ہم نے
مَا
جو
فَرَضۡنَا
فرض کیا ہم نے
عَلَيۡهِمۡ
ان پر
فِىٓ
معاملے میں
أَزۡوٰجِهِمۡ
ان کی بیویوں کے (معاملے میں)
وَمَا
اور جن کے
مَلَكَتۡ
مالک ہیں
أَيۡمَـٰنُهُمۡ
ان کے دائیں ہاتھ
لِكَيۡلَا
تاکہ نہ
يَكُونَ
ہو
عَلَيۡكَ
آپ پر
حَرَجٌۗ
کوئی تنگی
وَكَانَ
اور ہے
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ
غَفُورًا
غفور
رَّحِيمًا
رحیم
٥٠
اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کے لیے حلال ٹھہرایا ہے آپ کی ان تمام ازواج کو جن کے مہر آپ نے ادا کیے ہیں ور (ان کو بھی) جو آپ ﷺ کی ملک یمین (باندیاں) ہیں ان سے جو اللہ نے آپ ﷺ کو بطور فے عطا کیں (اسی طرح آپ ﷺ کو نکاح کرنا جائز ہے) اپنے چچا کی بیٹیوں سے اور اپنی پھوپھیوں کی بیٹیوں سے اور اپنی ماموئوں کی بیٹیوں اور اپنی خالائوں کی بیٹیوں سے جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔ اور وہ مومن عورت بھی جو ہبہ کرے اپنا آپ نبی ﷺ کے لیے اگر نبی ﷺ اسے اپنے نکاح میں لانا چاہیں۔ یہ (رعایت) خالص آپ ﷺ کے لیے ہے مومنین سے علیحدہ۔ ہمیں خوب معلوم ہے جو ہم نے ان (عام مسلمانوں) پر ان کی بیویوں اور ان کی باندیوں کے ضمن میں فرض کیا ہے } تاکہ آپ ﷺ پر کوئی تنگی نہ رہے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
33:51
۞تُرۡجِى
آپ دور رکیں
مَن
جس کو
تَشَآءُ
آپ چاہیں
مِنۡهُنَّ
ان میں سے
وَتُــٔۡوِىٓ
اور آپ جگہ دیں
إِلَيۡكَ
اپنی طرف
مَن
جس کو
تَشَآءُۖ
آپ چاہیں
وَمَنِ
اور جس کو
ٱبۡتَغَيۡتَ
آپ چاہیں
مِمَّنۡ
ان میں سے
عَزَلۡتَ
الگ کردیں آپ
فَلَا
تو نہیں
جُنَاحَ
کوئی گناہ
عَلَيۡكَۚ
آپ پر
ذٰلِكَ
یہ بات
أَدۡنَىٰٓ
قریب تر ہے
أَن
کہ
تَقَرَّ
ٹھنڈی ہوں
أَعۡيُنُهُنَّ
ان کی نگاہیں
وَلَا
اور نہ
يَحۡزَنَّ
وہ غمگین ہوں
وَيَرۡضَيۡنَ
اور وہ راضی ہوجائیں
بِمَآ
ساتھ اس کے جو
ءَاتَيۡتَهُنَّ
دیا آپ نے ان کو
كُلُّهُنَّۚ
سب کی سب
وَٱللَّهُ
اور اللہ
يَعۡلَمُ
جانتا ہے
مَا
جو
فِى
میں
قُلُوبِكُمۡۚ
تمہارے دلوں میں ہے
وَكَانَ
اور ہے
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ
عَلِيمًا
علم والا
حَلِيمًا
حلم والا۔ بردبار
٥١
آپ ﷺ ان میں سے جس کو چاہیں پیچھے ہٹائیں اور جس کو چاہیں اپنے قریب جگہ دیں۔ اور جن کو آپ ﷺ نے دور کردیا تھا ان میں سے کسی کو (دوبارہ قریب کرنا) چاہیں تو بھی آپ ﷺ پر کوئی حرج نہیں یہ زیادہ قریب ہے اس سے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور وہ سب کی سب راضی رہیں اس پر جو بھی آپ انہیں دیں۔ } اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔ اور اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا بہت بردبار ہے۔
33:52
لَّا
نہیں
يَحِلُّ
حلال
لَكَ
آپ کے لیے
ٱلنِّسَآءُ
عورتیں سے
مِنۢ
کے
بَعۡدُ
اس کے بعد
وَلَآ
اور نہ
أَن
کہ
تَبَدَّلَ
آپ بدل ڈالیں
بِهِنَّ
بدلے ان کے
مِنۡ
سے
أَزۡوٰجٍ
بیویوں میں (سے)
وَلَوۡ
اور اگرچہ
أَعۡجَبَكَ
پسند آئے آپ کو
حُسۡنُهُنَّ
حسن ان کا
إِلَّا
مگر
مَا
جن کا
مَلَكَتۡ
مالک ہے
يَمِينُكَۗ
آپ کا دایاں ہاتھ
وَكَانَ
اور ہے
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ
عَلَىٰ
اوپر
كُلِّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز کے
رَّقِيبًا
نگران
٥٢
اب اس کے بعد اور عورتیں آپ ﷺ کے لیے حلال نہیں اور نہ ہی (اس کی اجازت ہے کہ) آپ ﷺ ان میں سے کسی کی جگہ کوئی اور بیوی لے آئیں اگرچہ ان کا حسن آپ ﷺ کو اچھا لگے سوائے اس کے جو آپ ﷺ کی مملوکہ ہو } اور اللہ ہرچیز پر نگران ہے۔
33:53
يَـٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلَّذِينَ
لوگو
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے ہو
لَا
نہ
تَدۡخُلُواۡ
تم داخل ہو
بُيُوتَ
گھروں میں
ٱلنَّبِىِّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
يُؤۡذَنَ
اجازت دی جائے
لَكُمۡ
تمہارے لیے
إِلَىٰ
طرف
طَعَامٍ
کھانے کی (طرف)
غَيۡرَ
نہ
نَـٰظِرِينَ
انتظار کرنے والے ہو۔ نہ دیکھنے والے ہو
إِنَـٰهُ
اس کے پکنے کا۔ پکنا اس کا
وَلَـٰكِنۡ
اور لیکن
إِذَا
جب
دُعِيتُمۡ
بلائے جاؤ تم
فَٱدۡخُلُواۡ
تو داخل ہوجاؤ
فَإِذَا
پھر جب
طَعِمۡتُمۡ
کھانا کھالو
فَٱنتَشِرُواۡ
تو منتشر ہوجاؤ
وَلَا
اور نہ
مُسۡتَــٔۡنِسِينَ
آرام پائے۔ مشغول ہونے والے
لِحَدِيثٍۚ
باتوں کے لیے
إِنَّ
بیشک
ذٰلِكُمۡ
یہ بات
كَانَ
ہے
يُؤۡذِى
ایذا دیتی۔ تکلیف دیتی
ٱلنَّبِىَّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
فَيَسۡتَحۡىِۦ
تو وہ شرماتے جاتے ہیں
مِنكُمۡۖ
تم سے
وَٱللَّهُ
اور اللہ تعالیٰ
لَا
نہیں
يَسۡتَحۡىِۦ
شرماتا
مِنَ
سے
ٱلۡحَقِّۚ
حق (سے)
وَإِذَا
اور جب
سَأَلۡتُمُوهُنَّ
سوال کرو تم ان سے
مَتَـٰعًا
کسی چیز کا
فَسۡــَٔلُوهُنَّ
تو سوال کرو ان سے۔ مانگو ان سے
مِن
سے
وَرَآءِ
پیچھے (سے)
حِجَابٍۚ
پردے کے
ذٰلِكُمۡ
یہ بات
أَطۡهَرُ
زیادہ پاکیزہ ہے
لِقُلُوبِكُمۡ
تمہارے دلوں کے لیے
وَقُلُوبِهِنَّۚ
اور ان کے دلوں کے لیے
وَمَا
اور نہیں
كَانَ
ہے
لَكُمۡ
(مناسب) تمہارے لیے
أَن
کہ
تُؤۡذُواۡ
تم ایذا دو
رَسُولَ
رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو
ٱللَّهِ
اللہ کے
وَلَآ
اور نہ
أَن
یہ کہ
تَنكِحُوٓاۡ
تم نکاح کرو
أَزۡوٰجَهُۥ
آپ کی بیویوں سے
مِنۢ
کے
بَعۡدِهِۦٓ
اس کے بعد
أَبَدًاۚ
کبھی بھی
إِنَّ
بیشک
ذٰلِكُمۡ
یہ بات
كَانَ
ہے
عِندَ
نزدیک
ٱللَّهِ
اللہ کے
عَظِيمًا
بہت بڑی
٥٣
اے اہل ِ ایمان ! مت داخل ہوجایا کرو نبی ﷺ کے گھروں میں مگر یہ کہ تمہیں کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے نہ انتظار کرتے ہوئے کھانے کی تیاری کا ہاں جب تمہیں بلایا جائے تب داخل ہوا کرو پھر جب کھانا کھا چکو تو منتشر ہوجایا کرو اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہا کرو۔ تمہاری یہ باتیں نبی ﷺ کے لیے تکلیف کا باعث تھیں مگر وہ (نبی ﷺ آپ لوگوں سے جھجک محسوس کرتے ہیں اور اللہ حق (بیان کرنے) سے نہیں جھجکتا اور جب تمہیں نبی ﷺ کی بیویوں سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کی اوٹ سے مانگا کرو۔ یہ طرز عمل زیادہ پاکیزہ ہے تمہارے دلوں کے لیے بھی اور ان ؓ کے دلوں کے لیے بھی۔ اور تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول ﷺ کو ایذا پہنچائو اور نہ یہ (جائز ہے) کہ تم نکاح کرو آپ ﷺ کی بیویوں سے آپ ﷺ کے بعد کبھی بھی۔ } یقینا اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے۔
33:54
إِن
اگر
تُبۡدُواۡ
تم ظاہر کرو گے
شَيۡــًٔا
کوئی چیز
أَوۡ
یا
تُخۡفُوهُ
تم چھپاؤ گے اس کو
فَإِنَّ
تو بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
كَانَ
ہے
بِكُلِّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز کو
عَلِيمًا
جاننے والا
٥٤
خواہ تم کسی چیز کو ظاہر کرو خواہ چھپائو اللہ یقینا ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔
33:55
لَّا
نہیں
جُنَاحَ
کوئی گناہ
عَلَيۡهِنَّ
ان (خواتین) پر
فِىٓ
میں
ءَابَآئِهِنَّ
اپنے باپوں کے معاملے میں
وَلَآ
اور نہ
أَبۡنَآئِهِنَّ
اپنے بیٹوں کے (معاملے میں)
وَلَآ
اور نہ
إِخۡوٰنِهِنَّ
اپنے بھائیوں کے (معاملے میں)
وَلَآ
اور نہ
أَبۡنَآءِ
بیٹوں کے (معاملے میں)
إِخۡوٰنِهِنَّ
اپنے بھائیوں کے
وَلَآ
اور نہ
أَبۡنَآءِ
بیٹوں کے (معاملے میں)
أَخَوٰتِهِنَّ
اپنی بہنوں کے
وَلَا
اور نہ
نِسَآئِهِنَّ
اپنی عورتوں کے (معاملے میں)
وَلَا
اور نہ
مَا
جن کے
مَلَكَتۡ
ان کے (معاملے میں) جن کے مالک ہیں
أَيۡمَـٰنُهُنَّۗ
ان کے دائیں ہاتھ
وَٱتَّقِينَ
اور ڈرو
ٱللَّهَۚ
اللہ سے
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
كَانَ
ہے
عَلَىٰ
پر
كُلِّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز
شَهِيدًا
گواہ
٥٥
کوئی حرج نہیں اُن (ازواجِ نبی ﷺ پر ان کے باپوں کے معاملے میں اور نہ (کوئی حرج ہے) ان کے بیٹوں کے بارے میں اور نہ ان کے بھائیوں کے بارے میں اور نہ ان کے بھائیوں کے بیٹوں کے بارے میں اور نہ ان کی بہنوں کے بیٹوں کے بارے میں اور نہ ان کی جان پہچان کی عورتوں کے بارے میں اور نہ ہی ان کی ِملک یمین کے بارے میں۔ } اور (اے نبی ﷺ کی بیویو !) تم اللہ سے ڈرتی رہو۔ یقینا اللہ ہرچیز پر گواہ ہے۔
33:56
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
وَمَلَـٰٓئِكَتَهُۥ
اور اس کے فرشتے
يُصَلُّونَ
درود بھیجتے ہیں
عَلَى
پر
ٱلنَّبِىِّۚ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
يَـٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلَّذِينَ
لوگو
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے ہو
صَلُّواۡ
درود بھیجو
عَلَيۡهِ
اس پر
وَسَلِّمُواۡ
اور سلام بھیجو
تَسۡلِيمًا
سلام بھیجنا
٥٦
یقینا اللہ اور اس کے فرشتے رحمتیں نازل کرتے ہیں نبی ﷺ پر } اے ایمان والو ! تم بھی آپ ﷺ پر رحمتیں اور سلام بھیجا کرو
33:57
إِنَّ
بیشک
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
يُؤۡذُونَ
جو ایذا دیتے ہیں
ٱللَّهَ
اللہ کو
وَرَسُولَهُۥ
اور اس کے رسول کو
لَعَنَهُمُ
لعنت کی ان پر
ٱللَّهُ
اللہ نے
فِى
میں
ٱلدُّنۡيَا
دنیا (میں)
وَٱلۡأَخِرَةِ
اور آخرت میں
وَأَعَدَّ
اور تیار کیا
لَهُمۡ
ان کے لیے
عَذَابًا
عذاب
مُّهِينًا
رسوا کرنے والا
٥٧
یقینا وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو } اللہ نے لعنت کی ہے ان پر دنیا اور آخرت دونوں میں اور ان کے لیے اس نے اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔
33:58
وَٱلَّذِينَ
اور وہ لوگ
يُؤۡذُونَ
جو ایذا دیتے ہیں
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
مومن مردوں کو
وَٱلۡمُؤۡمِنَـٰتِ
اور مومن عورتوں کو
بِغَيۡرِ
بغیر اس کے
مَا
جو
ٱكۡتَسَبُواۡ
انہوں نے کمائی کی۔ بےقصور
فَقَدِ
تو تحقیق
ٱحۡتَمَلُواۡ
انہوں نے اٹھا لیا
بُهۡتَـٰنًا
بہتان
وَإِثۡمًا
اور گناہ
مُّبِينًا
کھلا
٥٨
اور وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر اس کے کہ انہوں نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہو } تو انہوں نے اپنے سر بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ لے لیا ہے۔
33:59
يَـٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلنَّبِىُّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
قُل
کہہ دیجیے
لِّأَزۡوٰجِكَ
اپنی بیویوں کو
وَبَنَاتِكَ
اور اپنی بیٹیوں کو
وَنِسَآءِ
اور عورتوں کو
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اہل ایمان کی
يُدۡنِينَ
وہ لٹکا لیں
عَلَيۡهِنَّ
اپنے اوپر
مِن
سے
جَلَـٰبِيبِهِنَّۚ
اپنی چادروں میں سے۔ اپنے جلباب میں سے
ذٰلِكَ
یہ
أَدۡنَىٰٓ
قریب تر ہے
أَن
کہ
يُعۡرَفۡنَ
وہ پہچان لی جائیں
فَلَا
پھر نہ
يُؤۡذَيۡنَۗ
وہ ستائی جائیں
وَكَانَ
اور ہے
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ
غَفُورًا
غفور
رَّحِيمًا
رحیم
٥٩
اے نبی ﷺ ! اپنی بیویوں اپنی بیٹیوں اور اہل ایمان خواتین سے کہہ دیں کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادروں کا ایک حصہ لٹکا لیا کریں۔ یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں تو انہیں کوئی ایذا نہ پہنچائی جائے۔ } اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
33:60
۞لَّئِن
البتہ اگر
لَّمۡ
نہیں
يَنتَهِ
باز آئے
ٱلۡمُنَـٰفِقُونَ
منافق
وَٱلَّذِينَ
اور وہ لوگ
فِى
میں
قُلُوبِهِم
جن کے دلوں (میں)
مَّرَضٌ
بیماری ہے
وَٱلۡمُرۡجِفُونَ
اور بری خبریں اڑانے والے
فِى
میں
ٱلۡمَدِينَةِ
مدینہ (میں)
لَنُغۡرِيَنَّكَ
ہم ضرور پیچھے لگا دیں گے تجھ کو
بِهِمۡ
ان کے
ثُمَّ
پھر
لَا
نہ
يُجَاوِرُونَكَ
وہ ہمسایہ رہیں گے آپ کے
فِيهَآ
اس میں
إِلَّا
مگر
قَلِيلاً
بہت تھوڑے
٦٠
اگر باز نہ آئے یہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں سنسنی پھیلانے والے ہیں تو (اے نبی ﷺ !) ہم آپ کو ان پر اکسا دیں گے } پھر وہ آپ ﷺ کے پڑوسی بن کر اس (شہر) میں نہیں رہ سکیں گے مگر بہت تھوڑا عرصہ۔
33:61
مَّلۡعُونِينَۖ
لعنت کیے گئے
أَيۡنَمَا
جہاں کہیں
ثُقِفُوٓاۡ
وہ پائے گئے
أُخِذُواۡ
پکڑے گئے
وَقُتِّلُواۡ
اور قتل کر دیے جائیں
تَقۡتِيلاً
بری طرح قتل کیا جانا
٦١
یہ پھٹکارے ہوئے لوگ ہیں جہاں بھی پائے جائیں گے پکڑ لیے جائیں گے اور ُ بری طرح قتل کردیے جائیں گے۔
33:62
سُنَّةَ
طریقہ ہے
ٱللَّهِ
اللہ کا
فِى
معاملے میں
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کے
خَلَوۡاۡ
جو گزر چکے
مِن
سے
قَبۡلُۖ
اس سے پہلے
وَلَن
اور ہرگز نہ
تَجِدَ
تو پائے گا
لِسُنَّةِ
طریقے کو
ٱللَّهِ
اللہ کے
تَبۡدِيلاً
بدلنے والا
٦٢
اللہ کی یہی ُ سنت ّرہی ہے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو پہلے گزر چکے ہیں۔ اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی۔
33:63
يَسۡــَٔلُكَ
پوچھتے ہیں آپ سے
ٱلنَّاسُ
لوگ
عَنِ
کے بارے میں
ٱلسَّاعَةِۖ
قیامت کی
قُلۡ
کہہ دیجئے
إِنَّمَا
بیشک
عِلۡمُهَا
علم اس کا
عِندَ
پاس
ٱللَّهِۚ
اللہ کے
وَمَا
اور کیا
يُدۡرِيكَ
چیز بتائے تجھ کو
لَعَلَّ
شاید کہ
ٱلسَّاعَةَ
قیامت
تَكُونُ
ہو
قَرِيبًا
قریب ہی
٦٣
(اے نبی ﷺ !) لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور تمہیں کیا معلوم شاید کہ قیامت قریب ہی آچکی ہو
33:64
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
لَعَنَ
اس نے لعنت فرمائی ہے
ٱلۡكَـٰفِرِينَ
کافروں پر
وَأَعَدَّ
اور تیار کررکھا ہے
لَهُمۡ
ان کے لیے
سَعِيرًا
بھڑکتی ہوئی آگ کو
٦٤
بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے
33:65
خَـٰلِدِينَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں
فِيهَآ
اس میں
أَبَدًاۖ
ہمیشہ ہمیشہ
لَّا
نہ
يَجِدُونَ
وہ پائیں گے
وَلِيًّا
کوئی دوست
وَلَا
اور نہ
نَصِيرًا
کوئی مددگار
٦٥
وہ اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔ نہیں پائیں گے وہ کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار۔
33:66
يَوۡمَ
جس دن
تُقَلَّبُ
الٹ پلٹ کیے جائیں گے
وُجُوهُهُمۡ
ان کے چہرے
فِى
میں
ٱلنَّارِ
آگ (میں)
يَقُولُونَ
کہیں گے
يَـٰلَيۡتَنَآ
اے کاش کہ ہم
أَطَعۡنَا
اطاعت کرتے ہم
ٱللَّهَ
اللہ کی
وَأَطَعۡنَا
اور اطاعت کرتے ہم
ٱلرَّسُولَاۡ
رسول کی
٦٦
جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے } (اس وقت) وہ کہیں گے : ہائے کاش ! ہم نے اطاعت کی ہوتی اللہ کی اور اطاعت کی ہوتی رسول ﷺ کی
33:67
وَقَالُواۡ
اور وہ کہیں گے
رَبَّنَآ
اے ہمارے رب
إِنَّآ
بیشک ہم نے
أَطَعۡنَا
اطاعت کی ہم نے
سَادَتَنَا
اپنے سرداروں کی
وَكُبَرَآءَنَا
اور اپنے بڑوں کی
فَأَضَلُّونَا
تو انہوں نے بھٹکا دیا ہم کو
ٱلسَّبِيلَاۡ
اصل راستے سے
٦٧
اور کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی تو انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکا دیا۔
33:68
رَبَّنَآ
اے ہمارے رب
ءَاتِهِمۡ
دے ان کو
ضِعۡفَيۡنِ
دوگنا
مِنَ
سے
ٱلۡعَذَابِ
عذاب میں (سے)
وَٱلۡعَنۡهُمۡ
اور لعنت فرما
لَعۡنًا
ان پر لعنت
كَبِيرًا
بڑی
٦٨
اے ہمارے پروردگار ! ُ تو ان کو دوگنا عذاب دے اور ان پر لعنت فرما بہت ہی بڑی لعنت۔
33:69
يَـٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلَّذِينَ
لوگو
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے ہو
لَا
نہ
تَكُونُواۡ
تم ہوجاؤ
كَٱلَّذِينَ
ان لوگوں کی طرح
ءَاذَوۡاۡ
جنہوں نے اذیتیں دیں
مُوسَىٰ
موسیٰ کو
فَبَرَّأَهُ
تو بری کردیا اس کو
ٱللَّهُ
اللہ نے
مِمَّا
اس سے جو
قَالُواۡۚ
انہوں نے کہا تھا
وَكَانَ
اور تھا
عِندَ
پاس
ٱللَّهِ
اللہ کے
وَجِيهًا
باعزت
٦٩
اے اہل ِایمان ! تم ان لوگوں کی مانند نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ ؑ کو اذیت دی تھی تو اللہ نے اس کو بری ثابت کردیا اس بات سے جو انہوں نے کہی تھی اور وہ اللہ کے نزدیک بڑے مرتبے والا تھا۔
33:70
يَـٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلَّذِينَ
لوگو !
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے ہو
ٱتَّقُواۡ
ڈرو
ٱللَّهَ
اللہ سے
وَقُولُواۡ
اور کہو
قَوۡلاً
بات
سَدِيدًا
درست
٧٠
اے اہل ِایمان ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور بات کیا کرو سیدھی۔
33:71
يُصۡلِحۡ
وہ اصلاح کردے گا
لَكُمۡ
تمہارے لیے
أَعۡمَـٰلَكُمۡ
تمہارے اعمال کی
وَيَغۡفِرۡ
اور بخش دے گا
لَكُمۡ
تمہارے لیے
ذُنُوبَكُمۡۗ
تمہارے گناہوں کو
وَمَن
اور جو کوئی
يُطِعِ
اطاعت کرے گا
ٱللَّهَ
اللہ کی
وَرَسُولَهُۥ
اور اس کے رسول کی
فَقَدۡ
تو تحقیق
فَازَ
وہ کامیابی پائے گا
فَوۡزًا
کامیابی
عَظِيمًا
بڑی
٧١
اللہ تمہارے سارے اعمال درست کردے گا اور تمہاری خطائیں بخش دے گا۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند ہوگیا تو اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی۔
33:72
إِنَّا
بیشک ہم
عَرَضۡنَا
پیش کیا ہم نے
ٱلۡأَمَانَةَ
امانت کو
عَلَى
پر
ٱلسَّمَـٰوٰتِ
آسمانوں (پر)
وَٱلۡأَرۡضِ
اور زمین پر
وَٱلۡجِبَالِ
اور پہاڑوں پر
فَأَبَيۡنَ
تو انہوں نے انکار کردیا
أَن
کہ
يَحۡمِلۡنَهَا
اٹھائیں اس کو
وَأَشۡفَقۡنَ
اور وہ ڈر گئے
مِنۡهَا
اس سے
وَحَمَلَهَا
اور اٹھا لیا اس کو
ٱلۡإِنسَـٰنُۖ
انسان نے
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
كَانَ
ہے
ظَلُومًا
بہت ظالم
جَهُولاً
بہت جاہل
٧٢
ہم نے اس امانت کو پیش کیا آسمانوں پر اور زمین پر اور پہاڑوں پر تو ان سب نے انکار کردیا اس کو اٹھانے سے اور وہ اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا۔ یقینا وہ بڑا ظالم اور بڑا نادان تھا۔
33:73
لِّيُعَذِّبَ
تاکہ عذاب دے
ٱللَّهُ
اللہ
ٱلۡمُنَـٰفِقِينَ
منافق مردوں کو
وَٱلۡمُنَـٰفِقَـٰتِ
اور منافق عورتوں کو
وَٱلۡمُشۡرِكِينَ
اور مشرک مردوں کو
وَٱلۡمُشۡرِكَـٰتِ
اور مشرک عورتوں کو
وَيَتُوبَ
اور مہربان ہوجائے
ٱللَّهُ
اللہ
عَلَى
پر
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
مومن مردوں (پر)
وَٱلۡمُؤۡمِنَـٰتِۗ
اور مومن عورتوں پر
وَكَانَ
اور ہے
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ
غَفُورًا
غفور
رَّحِيمَۢا
رحیم
٧٣
تا کہ اللہ عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک َمردوں اور مشرک عورتوں کو اور اللہ رحمت کے ساتھ توجہ فرمائے مومن مردوں اور مومن عورتوں پر اور یقینا اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
Virtues & Hadith

Benefits of Surah Al-Ahzab

Discover authentic Prophetic Hadiths and spiritual virtues associated with reciting Surah Al-Ahzab.

Reward for Every Recited Letter

The Prophet ﷺ said: 'Whoever recites a letter from the Book of Allah will receive one good deed, and ten like it. I do not say Alif-Lam-Mim is one letter, but Alif is a letter, Lam is a letter, and Mim is a letter.' (Jami' at-Tirmidhi 2910).

Ref: Jami' at-Tirmidhi 2910

Reflecting Upon the Divine Guidance

Every Surah of the Noble Quran offers timeless guidance, spiritual solace, and light for daily life. Reflecting upon its verses deepens faith and draws one closer to Allah.

FAQ

Frequently Asked Questions About Surah Al-Ahzab

How many verses are in Surah Al-Ahzab?

Surah Al-Ahzab is one of the 114 chapters of the Noble Quran. You can explore its full Arabic text, verses count, revelation place, and translations above.

Can I listen to audio recitation of Surah Al-Ahzab?

Yes, Share For Sadqah provides crystal-clear audio recitations with verse-by-verse synchronization, tajweed highlighting, and Urdu audio translation.