Back to Surahs

يوسف

Yusuf

یوسف111 Verses10 Hadithsmakkah

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

✦
12:1
الٓر‌ۚ
ا ل ر
تِلۡكَ
یہ
ءَايَـٰتُ
آیات ہیں
ٱلۡكِتَـٰبِ
کتاب
ٱلۡمُبِينِ
روشن کی۔ واضح کتاب کی
١
الۗرٰ یہ ایک روشن کتاب کی آیات ہیں
12:2
إِنَّآ
بیشک ہم نے
أَنزَلۡنَـٰهُ
نازل کیا ہم نے اس کو
قُرۡءٰنًا
ایک قرآن
عَرَبِيًّا
عربی
لَّعَلَّكُمۡ
تاکہ تم
تَعۡقِلُونَ
تم سمجھ سکو۔ عقل سے کام لو
٢
ہم نے اس کو نازل کیا ہے عربی قرآن بنا کر تاکہ تم لوگ اسے اچھی طرح سے سمجھ سکو
12:3
نَحۡنُ
ہم
نَقُصُّ
بیان کرتے ہیں
عَلَيۡكَ
آپ پر
أَحۡسَنَ
بہترین
ٱلۡقَصَصِ
بیان۔ بہترین واقعہ۔ قصوں میں سے بہترین قصہ
بِمَآ
ساتھ اس کے جو
أَوۡحَيۡنَآ
وحی کررہے ہیں ہم
إِلَيۡكَ
آپ کی طرف
هَـٰذَا
اس
ٱلۡقُرۡءَانَ
قرآن (نہیں)
وَإِن
اور بیشک
كُنتَ
تھے آپ
مِن
سے
قَبۡلِهِۦ
اس سے پہلے
لَمِنَ
البتہ میں سے
ٱلۡغَـٰفِلِينَ
غافلوں (میں سے)
٣
(اے نبی !) ہم آپ کو سنانے لگے ہیں بہترین بیان اس قرآن کے ساتھ جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے اور یقیناً آپ اس سے پہلے (اس سے) ناواقف تھے
12:4
إِذۡ
جب
قَالَ
کہا تھا
يُوسُفُ
یوسف نے
لِأَبِيهِ
اپنے والد سے
يَـٰٓأَبَتِ
اے میرے ابا جان
إِنِّى
بیشک میں نے
رَأَيۡتُ
نے دیکھا ہے (خواب)
أَحَدَ
ایک
عَشَرَ
دس (گیارہ)
كَوۡكَبًا
ستاروں کو
وَٱلشَّمۡسَ
اور سورج
وَٱلۡقَمَرَ
اور چاند کو
رَأَيۡتُهُمۡ
میں نے دیکھا ان کو
لِى
میرے لیے
سَـٰجِدِينَ
سجدہ کررہے ہیں
٤
جب یوسف نے اپنے والد (یعقوب) سے کہا اباجان ! میں نے خواب میں دیکھا ہے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو میں نے ان کو دیکھا ہے کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں
12:5
قَالَ
اس نے کہا
يَـٰبُنَىَّ
اے میرے بیٹے
لَا
نہ
تَقۡصُصۡ
تم بتانا۔ نہ تم بیان کرنا
رُءۡيَاكَ
اپنا خواب
عَلَىٰٓ
پر
إِخۡوَتِكَ
اپنے بھائیوں پر
فَيَكِيدُواۡ
ورنہ وہ چال چلیں گے
لَكَ
تیرے لیے
كَيۡدًا‌ۖ
ایک چال
إِنَّ
بیشک
ٱلشَّيۡطَـٰنَ
شیطان
لِلۡإِنسَـٰنِ
انسان کے لیے
عَدُوٌّ
دشمن ہے
مُّبِينٌ
کھلا
٥
یعقوب نے فرمایا : اے میرے پیارے بیٹے ! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے یقیناً شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے
12:6
وَكَذٰلِكَ
اور اسی طرح
يَجۡتَبِيكَ
چن لے گا تجھ کو
رَبُّكَ
تیرا رب
وَيُعَلِّمُكَ
اور سکھائے گا تجھ کو
مِن
کی
تَأۡوِيلِ
اور پورا کردے گا
ٱلۡأَحَادِيثِ
باتوں کا مطلب۔ باتوں کی تہہ تک پہنچنا
وَيُتِمُّ
اور پورا کر دے گا
نِعۡمَتَهُۥ
اپنی نعمت کو
عَلَيۡكَ
تجھ پر
وَعَلَىٰٓ
اور پر
ءَالِ
آل
يَعۡقُوبَ
یعقوب پر
كَمَآ
جیسا کہ
أَتَمَّهَا
اس نے پورا کیا اس کو
عَلَىٰٓ
پر
أَبَوَيۡكَ
تیرے دو باپوں پر
مِن
سے
قَبۡلُ
اس (سے) پہلے
إِبۡرٰهِيمَ
ابراہیم پر
وَإِسۡحَـٰقَ‌ۚ
اور اسحاق
إِنَّ
بیشک
رَبَّكَ
تیرا رب
عَلِيمٌ
علم والا
حَكِيمٌ
حکمت والا ہے
٦
اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں منتخب کرے گا اور تمہیں سکھائے گا تاویل الاحادیث میں سے (علم) اور اتمام فرمائے گا اپنی نعمت کا تجھ پر اور آل یعقوب پر جس طرح اس نے اس سے پہلے اپنی نعمت کا اتمام فرمایا تیرے آباء واجداد ابراہیم اور اسحاق ؑ پر یقیناً تیرا رب جاننے والا حکمت والا ہے
12:7
۞لَّقَدۡ
البتہ تحقیق
كَانَ
ہیں
فِى
میں
يُوسُفَ
یوسف
وَإِخۡوَتِهِۦٓ
اور اس کے بھائیوں میں
ءَايَـٰتٌ
نشانیاں
لِّلسَّآئِلِينَ
سوال کرنے والوں کے لیے
٧
یقیناً یوسف اور آپ ؑ کے بھائیوں (کے قصے) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں پوچھنے والوں کے لیے
12:8
إِذۡ
جب
قَالُواۡ
انہوں نے کہا تھا
لَيُوسُفُ
بلاشبہ یوسف
وَأَخُوهُ
اور اس کا بھائی
أَحَبُّ
زیادہ پیارے ہیں۔ محبوب ہیں
إِلَىٰٓ
طرف
أَبِينَا
ہمارے باپ کے
مِنَّا
بہ نسبت ہمارے
وَنَحۡنُ
حالانکہ ہم
عُصۡبَةٌ
ایک گروہ ہیں۔ جتھہ ہیں
إِنَّ
بیشک
أَبَانَا
ہمارے والد
لَفِى
البتہ میں
ضَلَـٰلٍ
بھول میں ہیں
مُّبِينٍ
واضح
٨
جب انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے والد کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں جبکہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں یقیناً ہمارے والد صریح غلطی پر ہیں
12:9
ٱقۡتُلُواۡ
قتل کردو
يُوسُفَ
یوسف کو
أَوِ
یا
ٱطۡرَحُوهُ
پھینک دو اس کو
أَرۡضًا
کسی زمین میں
يَخۡلُ
خالی ہوجائے گا
لَكُمۡ
تمہارے لیے
وَجۡهُ
چہرہ
أَبِيكُمۡ
تمہارے باپ کا
وَتَكُونُواۡ
اور تم ہوجانا
مِنۢ
کے
بَعۡدِهِۦ
اس کام کے بعد
قَوۡمًا
لوگ
صَـٰلِحِينَ
نیک
٩
(چنانچہ) قتل کر دو یوسف کو یا اسے پھینک آؤ (دور) کسی علاقے میں تاکہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے اور پھر اس کے بعد نیک بن جانا
12:10
قَالَ
کہا
قَآئِلٌ
ایک کہنے والے نے
مِّنۡهُمۡ
انہی میں سے
لَا
مت
تَقۡتُلُواۡ
قتل کرو
يُوسُفَ
یوسف کو
وَأَلۡقُوهُ
بلکہ ڈال دو اس کو
فِى
میں
غَيَـٰبَتِ
اندھیرے
ٱلۡجُبِّ
کنوئیں میں۔ کنوئیں کی گہرائی میں
يَلۡتَقِطۡهُ
اٹھا لے گا اس کو
بَعۡضُ
کوئی
ٱلسَّيَّارَةِ
قافلہ
إِن
اگر
كُنتُمۡ
ہو تم
فَـٰعِلِينَ
کرنے والے
١٠
کہا ان میں سے ایک کہنے والے نے کہ یوسف کو قتل مت کرو اور ڈال آؤ اسے کسی باؤلی کے طاقچے میں اٹھا لے جائے گا اس کو کوئی قافلہ اگر تم کچھ کرنے ہی والے ہو
12:11
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
يَـٰٓأَبَانَا
اے ہمارے ابا جان
مَا
کیا ہے
لَكَ
آپ کو
لَا
نہیں
تَأۡمَ۫نَّا
آپ بھروسہ کرتے ہم
عَلَىٰ
پر
يُوسُفَ
یوسف کے معاملے میں
وَإِنَّا
اور بیشک ہم
لَهُۥ
اس کے لیے
لَنَـٰصِحُونَ
یقینا خیرخواہ ہیں
١١
انہوں نے کہا : اباجان ! کیا وجہ ہے کہ آپ ہم پر بھروسہ نہیں کرتے یوسف کے معاملے میں حالانکہ ہم تو اس کے بڑے خیر خواہ ہیں
12:12
أَرۡسِلۡهُ
بھیجئے اس کو
مَعَنَا
ہمارے ساتھ
غَدًا
کل
يَرۡتَعۡ
وہ چرلے۔ کھالے
وَيَلۡعَبۡ
اور کھیلے
وَإِنَّا
اور بیشک ہم
لَهُۥ
اس کے لیے
لَحَـٰفِظُونَ
البتہ حفاظت کرنے والے ہیں
١٢
کل ذرا اسے ہمارے ساتھ بھیجئے وہ کچھ چر چگ لے گا اور کھیلے کو دے گا اور ہم یقینا اس کی حفاظت کرنے والے ہیں
12:13
قَالَ
اس نے کہا
إِنِّى
بیشک مجھے
لَيَحۡزُنُنِىٓ
البتہ غمگین کرتی ہے مجھ (یہ بات)
أَن
کہ
تَذۡهَبُواۡ
تم لے جاؤ
بِهِۦ
اس کو
وَأَخَافُ
اور میں ڈرتا ہوں
أَن
کہ
يَأۡكُلَهُ
کھاجائے گا اس کو
ٱلذِّئۡبُ
بھیڑیا
وَأَنتُمۡ
اس حال میں کہ تم
عَنۡهُ
اس سے
غَـٰفِلُونَ
غافل ہو
١٣
یعقوب نے فرمایا : مجھے یہ بات اندیشہ میں ڈالتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ کھاجائے جبکہ تم اس سے غافل ہوجاؤ
12:14
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
لَئِنۡ
البتہ اگر
أَكَلَهُ
تو کھا گیا اس کو
ٱلذِّئۡبُ
بھیڑیا
وَنَحۡنُ
جبکہ ہم
عُصۡبَةٌ
ایک گروہ ہیں
إِنَّآ
بیشک ہم
إِذًا
تب
لَّخَـٰسِرُونَ
البتہ خسارہ پانے والے ہیں
١٤
وہ کہنے لگے کہ اگر (ہمارے ہوتے ہوئے) اسے بھیڑیا کھا گیا جبکہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں تب تو ہم بہت ہی نکمے ثابت ہوں گے
12:15
فَلَمَّا
تو جب
ذَهَبُواۡ
وہ لے گئے
بِهِۦ
اس کو
وَأَجۡمَعُوٓاۡ
اور انہوں نے اتفاق طے کرلیا
أَن
کہ
يَجۡعَلُوهُ
ڈالیں اس کو
فِى
میں
غَيَـٰبَتِ
اندھے
ٱلۡجُبِّ‌ۚ
کنوئیں میں۔ کنوئیں کی گہرائی میں
وَأَوۡحَيۡنَآ
اور وحی کی ہم نے
إِلَيۡهِ
اس کی طرف
لَتُنَبِّئَنَّهُم
البتہ تو ضرور آگاہ کرے گا ان کو
بِأَمۡرِهِمۡ
ان کے کام کے بارے میں
هَـٰذَا
اس
وَهُمۡ
اور وہ
لَا
نہ
يَشۡعُرُونَ
شعور رکھتے ہوں گے
١٥
پھر جب وہ اس کو لے گئے اور سب اس پر متفق ہوگئے کہ اسے ڈال دیں باؤلی کے طاقچے میں اور ہم نے (اس وقت) وحی کی یوسف کو کہ تم (ایک دن) ان کو ان کی یہ حرکت ضرور جتلاؤ گے اور انہیں اس کا اندازہ بھی نہیں ہوگا
12:16
وَجَآءُوٓ
اور وہ آگئے
أَبَاهُمۡ
اپنے باپ کے پاس
عِشَآءً
عشاء کے وقت
يَبۡكُونَ
روتے پیٹتے
١٦
اور وہ آئے اپنے والد کے پاس شام کو روتے ہوئے
12:17
قَالُواۡ
کہنے لگے
يَـٰٓأَبَانَآ
اے ابا جان
إِنَّا
بیشک ہم
ذَهَبۡنَا
ہم چلے گئے تھے
نَسۡتَبِقُ
دوڑ لگانے کے لیے
وَتَرَكۡنَا
اور ہم چھوڑ گئے
يُوسُفَ
یوسف کو
عِندَ
پاس
مَتَـٰعِنَا
اپنے سامان کے
فَأَكَلَهُ
پھر کھا گیا اس کو
ٱلذِّئۡبُ‌ۖ
بھیڑیا
وَمَآ
اور نہیں
أَنتَ
تو
بِمُؤۡمِنٍ
ماننے والا
لَّنَا
ہم کو
وَلَوۡ
اور اگرچہ
كُنَّا
ہوں ہم
صَـٰدِقِينَ
سچ بولنے والے
١٧
انہوں نے کہا : ابا جان ! ہم جا کر دوڑ کا مقابلہ کرنے لگے اور ہم نے چھوڑ دیا تھا یوسف کو اپنے سامان کے پاس تو اسے کھالیا ایک بھیڑیے نے۔ اور آپ ہماری بات مانیں گے تو نہیں خواہ ہم کتنے ہی سچے ہوں
12:18
وَجَآءُو
اور وہ لائے تھے
عَلَىٰ
پر
قَمِيصِهِۦ
اس کی قمیص
بِدَمٍ
خون
كَذِبٍ‌ۚ
جھوٹا
قَالَ
کہا
بَلۡ
بلکہ
سَوَّلَتۡ
آسان کردیا
لَكُمۡ
تمہارے لیے
أَنفُسُكُمۡ
تمہارے نفسوں نے
أَمۡرًا‌ۖ
ایک کام کو
فَصَبۡرٌ
تو صبر ہی
جَمِيلٌ‌ۖ
اچھا ہے
وَٱللَّهُ
اور اللہ ہی ہے
ٱلۡمُسۡتَعَانُ
جس سے مدد چاہی جاسکتی ہے
عَلَىٰ
اس کے خلاف
مَا
جو
تَصِفُونَ
تم بیان کررہے ہو
١٨
اور وہ اس کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے حضرت یعقوب نے فرمایا : (واقعہ یوں نہیں) بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا ہے اب صبر ہی بہتر ہے اور اللہ ہی کی مدد طلب کی جاسکتی ہے اس پر جو تم بیان کر رہے ہو
12:19
وَجَآءَتۡ
اور آیا
سَيَّارَةٌ
ایک قافلہ
فَأَرۡسَلُواۡ
تو انہوں نے بھیجا
وَارِدَهُمۡ
اپنا پانی پلانے والا
فَأَدۡلَىٰ
تو اس نے ڈالا
دَلۡوَهُۥ‌ۖ
اپنا ڈول
قَالَ
بولا
يَـٰبُشۡرَىٰ
واہ خوش خبری
هَـٰذَا
یہ
غُلَـٰمٌ‌ۚ
تو ایک لڑکا ہے
وَأَسَرُّوهُ
اور انہوں نے چھپالیا اس کو
بِضَـٰعَةً‌ۚ
سامان سمجھ کر۔ مال تجارت سمجھ کر
وَٱللَّهُ
اور اللہ
عَلِيمُۢ
علم والا ہے
بِمَا
ساتھ اس کے جو
يَعۡمَلُونَ
وہ کررہے تھے
١٩
اور (کچھ عرصہ بعد) ایک قافلہ آیا تو انہوں نے بھیجا اپنے آگے چلنے والے کو تو اس نے لٹکایا اپنا ڈول وہ پکار اٹھا کہ خوشخبری ہو ! یہ تو ایک لڑکا ہے۔ اور انہوں نے اسے چھپالیا ایک پونجی سمجھ کر اور اللہ خوب جانتا تھا جو وہ کر رہے تھے
12:20
وَشَرَوۡهُ
اور انہوں نے بیچ ڈالا اس کو
بِثَمَنِۭ
قیمت پر
بَخۡسٍ
کم
دَرٰهِمَ
درہموں میں
مَعۡدُودَةٍ
گنے چنے
وَكَانُواۡ
اور وہ تھے
فِيهِ
اس کے بارے میں
مِنَ
سے
ٱلزّٰهِدِينَ
بےرغبت لوگوں میں سے
٢٠
اور (مصر پہنچ کر) انہوں نے بیچ دیا اس کو بڑی تھوڑی سی قیمت پر چند درہم کے عوض اور وہ تھے اس کے معاملے میں بہت ہی قناعت پسند
12:21
وَقَالَ
اور کہا
ٱلَّذِى
اس شخص نے
ٱشۡتَرَٮٰهُ
جس نے خریدا تھا اس کو
مِن
سے
مِّصۡرَ
مصر سے
لِٱمۡرَأَتِهِۦٓ
اپنی بیوی کو
أَكۡرِمِى
باعزت رکھ۔ عزت کے ساتھ دے
مَثۡوَٮٰهُ
ٹھکانہ اس کو
عَسَىٰٓ
امید ہے
أَن
کہ
يَنفَعَنَآ
نفع دے گا ہم کو
أَوۡ
یا
نَتَّخِذَهُۥ
ہم بنالیں گے اس کو
وَلَدًا‌ۚ
بیٹا
وَكَذٰلِكَ
اور اسی طرح
مَكَّنَّا
ٹھکانہ دیا ہم نے
لِيُوسُفَ
یوسف کو
فِى
میں
ٱلۡأَرۡضِ
زمین میں
وَلِنُعَلِّمَهُۥ
اور تاکہ ہم سکھائیں اس کو
مِن
سے
تَأۡوِيلِ
مطلب مٰیں سے
ٱلۡأَحَادِيثِ‌ۚ
باتوں کے (مطلب مٰیں سے)
وَٱللَّهُ
اور اللہ تعالیٰ
غَالِبٌ
غالب ہے
عَلَىٰٓ
میں۔ پر
أَمۡرِهِۦ
اپنے فیصلے (میں) اپنے کام پر
وَلَـٰكِنَّ
اور لیکن
أَكۡثَرَ
اکثر
ٱلنَّاسِ
لوگ
لَا
نہیں
يَعۡلَمُونَ
علم رکھتے
٢١
اور مصر کے جس شخص نے یوسف کو خریدا (اس نے) اپنی بیوی سے کہا : اس کو اچھے طریقے سے رکھنا ہوسکتا ہے یہ ہمارے لیے نفع بخش ہو یا پھر ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں اور اس طرح ہم نے یوسف کو اس ملک میں تمکنّ عطا کیا اور تاکہ ہم اس کو سکھائیں باتوں کی تہہ تک پہنچنے کا علم اور اللہ تو اپنے فیصلے پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
12:22
وَلَمَّا
اور جب
بَلَغَ
وہ پہنچا
أَشُدَّهُۥٓ
اپنی جوانی کو
ءَاتَيۡنَـٰهُ
دی ہم نے اس کو
حُكۡمًا
قوت فیصلہ
وَعِلۡمًا‌ۚ
اور علم
وَكَذٰلِكَ
اور اسی طرح
نَجۡزِى
ہم جزا دیتے ہیں
ٱلۡمُحۡسِنِينَ
احسان کرنے والوں کو
٢٢
اور جب آپ اپنی جوانی کو پہنچ گئے تو ہم نے آپ کو حکم اور علم عطا کیا اور اسی طرح ہم محسنین کو بدلہ دیتے ہیں
12:23
وَرٰوَدَتۡهُ
اور پھسلانا چاہا اس کو
ٱلَّتِى
اس عورت نے
هُوَ
وہ
فِى
میں
بَيۡتِهَا
جس کے گھر میں تھے
عَن
سے
نَّفۡسِهِۦ
اس کے نفس سے
وَغَلَّقَتِ
اور بند کرلیے
ٱلۡأَبۡوٰبَ
دروازے
وَقَالَتۡ
اور بولی
هَيۡتَ
آجاؤ
لَكَ‌ۚ
تم
قَالَ
بولے
مَعَاذَ
پناہ
ٱللَّهِ‌ۖ
اللہ کی
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
رَبِّىٓ
میرا رب ہے
أَحۡسَنَ
جس نے اچھا دیا
مَثۡوَاىَ‌ۖ
مجھے ٹھکانہ
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
لَا
نہیں
يُفۡلِحُ
فلاح پاتے
ٱلظَّـٰلِمُونَ
وہ جو ظالم ہیں
٢٣
اور آپ کو پھسلانے کی کوشش کی اس عورت نے جس کے گھر میں آپ تھے اور (ایک موقع پر) اس نے دروازے بند کرلیے اور بولی جلدی سے آجاؤ آپ نے فرمایا : میں اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں وہ میرا رب ہے اس نے مجھے اچھا ٹھکانہ دیا ہے بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پایا کرتے
12:24
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
هَمَّتۡ
اس عورت نے ارادہ کیا
بِهِۦ‌ۖ
اس کا
وَهَمَّ
اور وہ بھی ارادہ کرلیتا
بِهَا
اس کا
لَوۡلَآ
اگر نہ
أَن
کہ
رَّءَا
وہ دیکھ لیتا
بُرۡهَـٰنَ
برہان
رَبِّهِۦ‌ۚ
اپنے رب کی
كَذٰلِكَ
اسی طرح
لِنَصۡرِفَ
تاکہ ہم پھیر دیں
عَنۡهُ
اس سے
ٱلسُّوٓءَ
برائی کو
وَٱلۡفَحۡشَآءَ‌ۚ
اور بےحیائی کو
إِنَّهُۥ
کیونکہ وہ
مِنۡ
سے
عِبَادِنَا
ہمارے بندوں میں (سے) تھا
ٱلۡمُخۡلَصِينَ
چنے ہوئے
٢٤
اور اس عورت نے ارادہ کیا آپ کا اور آپ بھی ارادہ کرلیتے اس کا اگر نہ دیکھ لیتے اپنے رب کی ایک دلیل یہ اس لیے کہ ہم پھیر دیں اس سے برائی اور بےحیائی کو یقیناً وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے
12:25
وَٱسۡتَبَقَا
اور وہ دونوں بڑھے
ٱلۡبَابَ
دروازے کی طرف
وَقَدَّتۡ
اور اس عورت نے پھاڑ دیا
قَمِيصَهُۥ
اس کا قمیص
مِن
سے
دُبُرٍ
پچھلی طرف سے
وَأَلۡفَيَا
اور دونوں نے پایا
سَيِّدَهَا
اس کے شوہر کو
لَدَا
پاس
ٱلۡبَابِ‌ۚ
دروازے کے (پاس)
قَالَتۡ
بول اٹھی
مَا
کیا
جَزَآءُ
بدلہ ہوسکتا ہے
مَنۡ
جو
أَرَادَ
ارادہ کرے
بِأَهۡلِكَ
تیری گھروالی کے ساتھ
سُوٓءًا
برائی کا
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
يُسۡجَنَ
قید کیا جائے
أَوۡ
یا
عَذَابٌ
سزا دیا جائے
أَلِيمٌ
دردناک
٢٥
اور وہ دونوں آگے پیچھے دروازے کی طرف دوڑے اور پھاڑ دی اس (عورت) نے آپ کی قمیص پیچھے سے اور پایا ان دونوں نے اس کے خاوند کو دروازے کے پاس وہ (فوراً) بولی کیا سزا ہونی چاہیے ایسے شخص کی جس نے ارادہ کیا تمہاری بیوی کے ساتھ برائی کا سوائے اس کے کہ اسے جیل بھیج دیا جائے یا کوئی اور درد ناک سزا دی جائے
12:26
قَالَ
اس نے کہا
هِىَ
یہ
رٰوَدَتۡنِى
پھسلانا چاہتی تھی تجھ کو
عَن
سے
نَّفۡسِى‌ۚ
میرے نفس
وَشَهِدَ
اور گواہی دی
شَاهِدٌ
ایک گواہ نے
مِّنۡ
سے
أَهۡلِهَآ
اس کے گھروالوں میں سے
إِن
اگر
كَانَ
ہے
قَمِيصُهُۥ
اس کی قمیص
قُدَّ
پھاڑی گئی
مِن
سے
قُبُلٍ
سامنے سے
فَصَدَقَتۡ
تو یہ سچی ہے
وَهُوَ
اور وہ
مِنَ
سے
ٱلۡكَـٰذِبِينَ
جھوٹوں میں سے ہے
٢٦
آپ نے فرمایا کہ اسی نے مجھے پھسلانا چاہا تھا اور گواہی دی عورت کے خاندان والوں میں سے ایک گواہ نے اگر تو اس کی قمیص پھٹی ہے سامنے سے تو یہ سچی ہے اور وہ جھوٹا ہے
12:27
وَإِن
اور اگر
كَانَ
ہے
قَمِيصُهُۥ
اس کی قمیص
قُدَّ
پھاڑی گئی
مِن
سے
دُبُرٍ
پچھلی طرف
فَكَذَبَتۡ
تو وہ جھوٹی ہے
وَهُوَ
اور وہ
مِنَ
سے
ٱلصَّـٰدِقِينَ
سچوں میں سے ہے
٢٧
اور اگر اس کی قمیص پھٹی ہے پیچھے سے تو پھر یہ جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے
12:28
فَلَمَّا
تو جب
رَءَا
اس نے دیکھا
قَمِيصَهُۥ
اس کی قمیص کو
قُدَّ
پھاڑ دی گئی ہے
مِن
سے
دُبُرٍ
پچھلی طرف سے
قَالَ
کہا۔ بولا
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
مِن
سے
كَيۡدِكُنَّ‌ۖ
تم عورتوں کی چال میں سے ہے
إِنَّ
بیشک
كَيۡدَكُنَّ
تم عورتوں کی چالیں
عَظِيمٌ
بہت بڑی ہوتی ہیں
٢٨
پھر جب اس (عزیز مصر) نے دیکھا کہ آپ کی قمیص پھٹی ہوئی ہے پیچھے سے تو اس نے کہا کہ یہ تم عورتوں کی چالوں میں سے (ایک چال) ہے یقیناً تم عورتوں کے فریب بہت بڑے ہوتے ہیں
12:29
يُوسُفُ
یوسف
أَعۡرِضۡ
درگزر کرو
عَنۡ
سے
هَـٰذَا‌ۚ
اس (سے)
وَٱسۡتَغۡفِرِى
اور بخشش مانگ
لِذَنۢبِكِ‌ۖ
اے عورت اپنے گناہ کی
إِنَّكِ
کیونکہ تو
كُنتِ
ہی ہے تو
مِنَ
سے
ٱلۡخَاطِــِٔينَ
خطا کاروں میں سے
٢٩
یوسف ! اس معاملے سے درگزر کرو اور تم اپنے گناہ کی معافی مانگو یقیناً قصور وار تم ہی ہو
12:30
۞وَقَالَ
اور کہا
نِسۡوَةٌ
عورتوں نے
فِى
میں
ٱلۡمَدِينَةِ
شہر
ٱمۡرَأَتُ
بیوی۔ عورت
ٱلۡعَزِيزِ
عزیز کی
تُرٰوِدُ
اکساتی ہے۔ پھسلاتی ہے
فَتَـٰهَا
اس کو
عَن
سے
نَّفۡسِهِۦ‌ۖ
اس کے نفس سے
قَدۡ
تحقیق
شَغَفَهَا
بےقابو کررکھا ہے اس کو
حُبًّا‌ۖ
محبت نے
إِنَّا
بیشک ہم
لَنَرَٮٰهَا
البتہ ہم دیکھتے ہیں اس کو
فِى
میں
ضَلَـٰلٍ
گمراہی
مُّبِينٍ
کھلی
٣٠
اور شہر میں عورتوں نے (اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے) کہا کہ عزیز کی بیوی تو اپنے غلام کو پھسلا رہی ہے وہ اس کی محبت میں گرفتار ہوچکی ہے یقیناً ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بہت بھٹک گئی ہے
12:31
فَلَمَّا
تو جب
سَمِعَتۡ
اس نے سنا
بِمَكۡرِهِنَّ
ان عورتوں کے مکر کو
أَرۡسَلَتۡ
اس نے بھیجا
إِلَيۡهِنَّ
ان کی طرف (بلا بھیجنا ان کو)
وَأَعۡتَدَتۡ
اور تیار کیں
لَهُنَّ
ان کے لیے
مُتَّكَــًٔا
تکیہ لگانے کی جگہ (مجلس)
وَءَاتَتۡ
اور دی
كُلَّ
ہر
وٰحِدَةٍ
ایک عورت کو
مِّنۡهُنَّ
ان میں سے
سِكِّينًا
ایک چھری
وَقَالَتِ
اور کہنے لگی
ٱخۡرُجۡ
نکل آ
عَلَيۡهِنَّ‌ۖ
ان پر
فَلَمَّا
تو جب
رَأَيۡنَهُۥٓ
ان عورتوں نے دیکھا اس کو
أَكۡبَرۡنَهُۥ
بڑا سمجھا اس کو۔ مرعوب ہوگئیں اس سے
وَقَطَّعۡنَ
اور کاٹ بیٹھیں
أَيۡدِيَهُنَّ
اپنے ہاتھ
وَقُلۡنَ
اور کہنے لگیں
حَـٰشَ
حاش۔پاکی
لِلَّهِ
للہ۔ پاکی ہے اللہ کے لیے
مَا
نہیں
هَـٰذَا
ہے یہ
بَشَرًا
ایک انسان
إِنۡ
نہیں
هَـٰذَآ
یہ
إِلَّا
مگر
مَلَكٌ
ایک فرشتہ
كَرِيمٌ
معزز
٣١
پھر جب اس نے سنیں ان کی مکارانہ باتیں اس نے دعوت دی ان سب کو اور اہتمام کیا ایک تکیہ دار مجلس کا اور ان میں سے ہر عورت کو اس نے ایک چھری دے دی اور (یوسف سے) کہا کہ اب تم ان کے سامنے آؤ پھر جب انہوں نے یوسف کو دیکھا تو اسے بہت عظیم جانا (ششدر رہ گئیں) اور ان سب نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور وہ پکار اٹھیں کہ حاشا للہ یہ کوئی آدمی تو نہیں ! یہ تو کوئی بہت بزرگ فرشتہ ہے
12:32
قَالَتۡ
وہ کہنے لگی
فَذٰلِكُنَّ
تو یہ ہے
ٱلَّذِى
وہ شخص
لُمۡتُنَّنِى
تم ملامت کرتی تھیں مجھ کو
فِيهِ‌ۖ
اس کے بارے میں
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
رٰوَدتُّهُۥ
میں نے پھسلانا چاہا اس کو
عَن
سے
نَّفۡسِهِۦ
اس کے نفس سے
فَٱسۡتَعۡصَمَ‌ۖ
تو بچا گیا۔ بچ نکلا
وَلَئِن
اور البتہ اگر
لَّمۡ
نہ
يَفۡعَلۡ
کرے
مَآ
جو
ءَامُرُهُۥ
میں حکم دیتی ہوں اس کو
لَيُسۡجَنَنَّ
البتہ ضرور قید کیا جائے گا
وَلَيَكُونًا
اور البتہ ہوجائے گا
مِّنَ
سے
ٱلصَّـٰغِرِينَ
ذلیل ہونے والوں میں سے
٣٢
تو اس عورت نے کہا کہ یہ ہے وہ جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کر رہی تھیں اور یقیناً میں نے اسے پھسلانا چاہا تھا لیکن وہ بچا رہا اور اگر اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے حکم دے رہی ہوں تو وہ لازماً قید میں پڑے گا اور ضرور ذلیل ہو کر رہے گا
12:33
قَالَ
اس نے کہا
رَبِّ
اے میرے رب
ٱلسِّجۡنُ
قیدخانہ
أَحَبُّ
زیادہ پیارا ہے
إِلَىَّ
میری طرف
مِمَّا
اس سے جو
يَدۡعُونَنِىٓ
وہ بلاتی ہیں مجھ کو
إِلَيۡهِ‌ۖ
اس کی طرف
وَإِلَّا
اور اگر نہیں
تَصۡرِفۡ
تو پھیرے گا
عَنِّى
مجھ سے
كَيۡدَهُنَّ
ان عورتوں کی چال کو
أَصۡبُ
میں مائل ہوجاؤں گا
إِلَيۡهِنَّ
ان کی طرف
وَأَكُن
اور میں ہوجاؤں گا
مِّنَ
سے
ٱلۡجَـٰهِلِينَ
جاہلوں میں سے
٣٣
یوسف نے دعا کی : اے میرے پروردگار ! مجھے قید زیادہ پسند ہے اس چیز سے جس کی طرف یہ مجھے بلا رہی ہیں اور اگر تو نے مجھ سے دور نہ کردیا ان کی چالوں کو تو (ہو سکتا ہے) میں بھی ان کی طرف مائل ہوجاؤں اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں
12:34
فَٱسۡتَجَابَ
تو دعا قبول کرلی
لَهُۥ
اس کے لیے
رَبُّهُۥ
اس کے رب نے
فَصَرَفَ
تو دور کردیں۔ پھیر دیں
عَنۡهُ
اس سے
كَيۡدَهُنَّ‌ۚ
ان عورتوں کی چال
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
هُوَ
وہ
ٱلسَّمِيعُ
سننے والا ہے
ٱلۡعَلِيمُ
جاننے والا ہے
٣٤
تو آپ کے رب نے آپ کی دعا قبول کرلی اور ان عورتوں کی چالوں کو آپ سے پھیر دیا۔ یقیناً وہی ہے سننے والا جاننے والا
12:35
ثُمَّ
پھر
بَدَا
ظاہر ہوگیا
لَهُم
ان کے لیے
مِّنۢ
کے
بَعۡدِ
اس کے بعد
مَا
جو
رَأَوُاۡ
انہوں نے دیکھیں
ٱلۡأَيَـٰتِ
نشانیاں
لَيَسۡجُنُنَّهُۥ
البتہ ضرور قید کردیں گے اس کو
حَتَّىٰ
تک
حِينٍ
ایک وقت
٣٥
پھر ان لوگوں کو یہ بات سوجھی ساری نشانیاں دیکھ لینے کے بعد کہ اس کو کچھ عرصہ کے لیے جیل میں ڈال دیا جائے
12:36
وَدَخَلَ
اور داخل ہوئے
مَعَهُ
اس کے ساتھ
ٱلسِّجۡنَ
قید خانہ میں
فَتَيَانِ‌ۖ
دو غلام
قَالَ
کہا
أَحَدُهُمَآ
ان دونوں میں سے ایک نے
إِنِّىٓ
بیشک میں
أَرَٮٰنِىٓ
میں دیکھتا ہوں خود کو
أَعۡصِرُ
میں نچوڑ رہا ہوں
خَمۡرًا‌ۖ
شراب
وَقَالَ
اور کہا
ٱلۡأَخَرُ
دوسرے نے
إِنِّىٓ
بیشک میں
أَرَٮٰنِىٓ
دیکھتا ہوں خود کو
أَحۡمِلُ
کہ میں اٹھائے ہوئے ہوں
فَوۡقَ
اوپر
رَأۡسِى
اپنے سر کے
خُبۡزًا
روٹی
تَأۡكُلُ
کھاتے ہیں
ٱلطَّيۡرُ
پرندے
مِنۡهُ‌ۖ
اس میں سے
نَبِّئۡنَا
بتاؤ ہم کو
بِتَأۡوِيلِهِۦٓ‌ۖ
اس کی تعبیر۔ مطلب
إِنَّا
بیشک ہم
نَرَٮٰكَ
ہم دیکھتے ہیں تجھ کو
مِنَ
سے
ٱلۡمُحۡسِنِينَ
محسنین میں سے
٣٦
اور داخل ہوئے آپ کے ساتھ جیل میں دو نوجوان ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے اس میں سے کھا رہے ہیں ہمیں ان خوابوں کی تعبیر بتا دیجیے ہم آپ کو بہت نیکوکار دیکھتے ہیں
12:37
قَالَ
اس نے کہا
لَا
نہیں
يَأۡتِيكُمَا
آئے گا تم دونوں کے پاس
طَعَامٌ
کھانا
تُرۡزَقَانِهِۦٓ
تم کھلائے جاتے ہو اس کو
إِلَّا
مگر
نَبَّأۡتُكُمَا
میں بتادوں گا تم دونوں کو
بِتَأۡوِيلِهِۦ
اس کی تعبیر
قَبۡلَ
اس سے پہلے
أَن
کہ
يَأۡتِيَكُمَا‌ۚ
وہ آئے تم دونوں کے پاس
ذٰلِكُمَا
یہ
مِمَّا
اس میں سے ہے جو
عَلَّمَنِى
سکھایا مجھ کو
رَبِّىٓ‌ۚ
میرے رب نے
إِنِّى
بیشک میں
تَرَكۡتُ
میں نے چھوڑ دیا
مِلَّةَ
ملت کو
قَوۡمٍ
ایک قوم کی
لَّا
نہیں
يُؤۡمِنُونَ
جو ایمان رکھتی
بِٱللَّهِ
اللہ پر
وَهُم
اور وہ
بِٱلۡأَخِرَةِ
آخرت کے ساتھ
هُمۡ
وہ
كَـٰفِرُونَ
انکاری ہیں
٣٧
یوسف نے فرمایا کہ تم لوگوں کو جو کھانا دیا جاتا ہے اس کے آنے سے پہلے پہلے میں تم دونوں کو اس کی تعبیر بتادوں گا یہ اس علم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا ہے دیکھو !) میں نے ترک کردیا ہے اس قوم کا راستہ جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے یہی لوگ منکر ہیں
12:38
وَٱتَّبَعۡتُ
اور میں نے پیروی کی
مِلَّةَ
ملت کی
ءَابَآءِىٓ
اپنے آباء کی
إِبۡرٰهِيمَ
ابراہیم
وَإِسۡحَـٰقَ
اور اسحاق
وَيَعۡقُوبَ‌ۚ
اور یعقوب
مَا
نہیں
كَانَ
ہے
لَنَآ
ہمارے لیے
أَن
کہ
نُّشۡرِكَ
ہم شریک ٹھہرائیں
بِٱللَّهِ
ساتھ اللہ کے
مِن
کسی
شَىۡءٍ‌ۚ
چیز کو
ذٰلِكَ
یہ
مِن
کے
فَضۡلِ
فضل میں سے ہے
ٱللَّهِ
اللہ کے
عَلَيۡنَا
ہم پر
وَعَلَى
اور پر
ٱلنَّاسِ
لوگوں
وَلَـٰكِنَّ
اور لیکن
أَكۡثَرَ
اکثر
ٱلنَّاسِ
لوگ
لَا
نہیں
يَشۡكُرُونَ
شکرادا کرتے
٣٨
اور میں نے پیروی کی ہے اپنے آباء ابراہیم اسحاق اور یعقوب کے طریقے کی (دیکھو !) ہمارے لیے یہ روا نہیں ہے کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی بھی شے کو شریک کریں یہ اللہ کا بڑا فضل ہے ہم پر اور سب لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
12:39
يَـٰصَـٰحِبَىِ
اے میرے دو ساتھیو
ٱلسِّجۡنِ
قیدخانے کے
ءَأَرۡبَابٌ
کیا بہت سے رب
مُّتَفَرِّقُونَ
مختلف قسم کے
خَيۡرٌ
بہتر ہیں
أَمِ
یا
ٱللَّهُ
اللہ
ٱلۡوٰحِدُ
جو ایک ہے
ٱلۡقَهَّارُ
زبردست ہے
٣٩
اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ! کیا بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا اکیلا اللہ سب پر حاوی و غالب
12:40
مَا
نہیں
تَعۡبُدُونَ
تم عبادت کرتے
مِن
کے
دُونِهِۦٓ
اس کے سوا
إِلَّآ
مگر
أَسۡمَآءً
کچھ ناموں کی
سَمَّيۡتُمُوهَآ
نام رکھ لیے تم نے ان کے
أَنتُمۡ
تم نے
وَءَابَآؤُكُم
اور تمہارے آباؤ اجداد نے
مَّآ
نہیں
أَنزَلَ
اتاری
ٱللَّهُ
اللہ نے
بِهَا
ان کے ساتھ
مِن
کوئی
سُلۡطَـٰنٍ‌ۚ
دلیل
إِنِ
نہیں
ٱلۡحُكۡمُ
فیصلہ۔ حکم
إِلَّا
مگر
لِلَّهِ‌ۚ
اللہ ہی کے لیے
أَمَرَ
اس نے حکم دیا
أَلَّا
کہ نہ
تَعۡبُدُوٓاۡ
تم عبادت کرو
إِلَّآ
مگر
إِيَّاهُ‌ۚ
صرف اسی کی
ذٰلِكَ
یہ
ٱلدِّينُ
دین ہے
ٱلۡقَيِّمُ
درست
وَلَـٰكِنَّ
لیکن
أَكۡثَرَ
اکثر
ٱلنَّاسِ
لوگ
لَا
نہیں
يَعۡلَمُونَ
جانتے ہیں
٤٠
نہیں پوجتے تم اس (اللہ) کے سوا مگر چند ناموں کو جو موسوم کر رکھے ہیں تم لوگوں نے اور تمہارے آباء و اَجداد نے نہیں اتاری اللہ نے ان کے لیے کوئی سند۔ اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی مت کرو یہی ہے دین سیدھا (اور ہمیشہ سے قائم و دائم) لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے
12:41
يَـٰصَـٰحِبَىِ
اے زنداں کے دونوں ساتھیو !
ٱلسِّجۡنِ
قیدخانہ کے
أَمَّآ
رہا
أَحَدُكُمَا
تم دونوں میں سے ایک
فَيَسۡقِى
پس وہ پلائے گا
رَبَّهُۥ
اپنے رب کو
خَمۡرًا‌ۖ
شراب
وَأَمَّا
اور لیکن
ٱلۡأَخَرُ
دوسرا
فَيُصۡلَبُ
پس وہ سولی چڑھایا جائے گا
فَتَأۡكُلُ
تو کھائیں گے
ٱلطَّيۡرُ
پرندے
مِن
سے
رَّأۡسِهِۦ‌ۚ
اس کے سر میں سے
قُضِىَ
فیصلہ کردیا گیا
ٱلۡأَمۡرُ
معاملے کا
ٱلَّذِى
وہ جو
فِيهِ
جس میں
تَسۡتَفۡتِيَانِ
تم دونوں جواب مانگتے ہو
٤١
اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا اور جو دوسرا ہے اسے سولی دے دی جائے گی اور پرندے اس کے سر میں سے (نوچ نوچ کر) کھائیں گے فیصلہ کردیا گیا ہے اس معاملے کا جس کے بارے میں تم دونوں مجھ سے پوچھ رہے تھے
12:42
وَقَالَ
اور کہا
لِلَّذِى
اس کے لیے۔ اس کو
ظَنَّ
کہ اس نے گمان کیا تھا
أَنَّهُۥ
کہ بیشک وہ
نَاجٍ
نجات پانے والا ہے
مِّنۡهُمَا
ان دونوں میں سے
ٱذۡكُرۡنِى
ذکر کرنا میرا
عِندَ
پاس
رَبِّكَ
اپنے آقا کے
فَأَنسَـٰهُ
تو بھلا دیا اس کو
ٱلشَّيۡطَـٰنُ
شیطان نے
ذِكۡرَ
ذکر کرنا
رَبِّهِۦ
اپنے آقا کو
فَلَبِثَ
تو ٹھہرا رہا
فِى
میں
ٱلسِّجۡنِ
قید خانے
بِضۡعَ
چند
سِنِينَ
سال
٤٢
اور یوسف نے کہا اس شخص سے جس کے بارے میں آپ نے گمان کیا کہ وہ ان دونوں میں سے نجات پائے گا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا تو اسے بھلائے رکھا شیطان نے ذکر کرنا اپنے آقا سے تو آپ رہے جیل میں کئی برس تک
12:43
وَقَالَ
اور کہا
ٱلۡمَلِكُ
بادشاہ نے
إِنِّىٓ
بیشک میں
أَرَىٰ
میں دیکھتا ہوں
سَبۡعَ
سات
بَقَرٰتٍ
گائیں
سِمَانٍ
موٹی
يَأۡكُلُهُنَّ
کھا رہی ہیں ان کو
سَبۡعٌ
سات
عِجَافٌ
پتلی
وَسَبۡعَ
اور سات
سُنۢبُلَـٰتٍ
بالیاں
خُضۡرٍ
سرسبز
وَأُخَرَ
اور دوسری
يَابِسَـٰتٍ‌ۖ
خشک
يَـٰٓأَيُّهَا
اے اہل
ٱلۡمَلَأُ
دربار
أَفۡتُونِى
جواب دو مجھ کو میرے
فِى
میں
رُءۡيَـٰىَ
خواب کے بارے میں
إِن
اگر
كُنتُمۡ
ہو تم
لِلرُّءۡيَا
خواب کے لیے
تَعۡبُرُونَ
تعبیر کرتے
٤٣
اور بادشاہ نے کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو کھا رہی ہیں سات دبلی گائیں اور سات بالیاں ہیں ہری اور دوسری (سات) خشک تو اے میرے درباریو ! مجھے بتاؤ تعبیر میرے خواب کی اگر تم لوگ خوابوں کی تعبیر کرسکتے ہو
12:44
قَالُوٓاۡ
انہوں نے کہا
أَضۡغَـٰثُ
گڑ بڑ۔ پراگندہ
أَحۡلَـٰمٍ‌ۖ
خواب ہیں
وَمَا
اور نہیں
نَحۡنُ
ہم
بِتَأۡوِيلِ
تعبیر کو
ٱلۡأَحۡلَـٰمِ
خوابوں کی
بِعَـٰلِمِينَ
جاننے والے
٤٤
انہوں نے کہا کہ یہ تو پریشان خیالات ہیں اور ایسے خوابوں کی تعبیر ہم نہیں جانتے
12:45
وَقَالَ
اور کہا
ٱلَّذِى
اس شخص نے
نَجَا
جو نجات پا گیا تھا
مِنۡهُمَا
ان دونوں میں سے
وَٱدَّكَرَ
اور اس نے یاد کیا
بَعۡدَ
بعد
أُمَّةٍ
ایک مدت کے
أَنَاۡ
میں
أُنَبِّئُكُم
بتاتا ہوں تم کو
بِتَأۡوِيلِهِۦ
اس کی تعبیر
فَأَرۡسِلُونِ
پس بھیجو مجھ کو
٤٥
اور کہا اس شخص نے جو ان دونوں (قیدیوں) میں سے نجات پا گیا تھا اور ایک طویل عرصے کے بعد اسے (اچانک) یاد آگیا (اس نے کہا) میں بتادوں گا تم لوگوں کو اس کی تعبیر بس مجھے ذرا (قید خانے میں یوسف کے پاس) بھیج دیں
12:46
يُوسُفُ
یوسف
أَيُّهَا
اے
ٱلصِّدِّيقُ
سراپا سچائی
أَفۡتِنَا
جواب دو ہم کو
فِى
میں
سَبۡعِ
سات
بَقَرٰتٍ
گائیوں کے بارے (میں)
سِمَانٍ
موٹی
يَأۡكُلُهُنَّ
کھا رہی ہیں ان کو
سَبۡعٌ
سات
عِجَافٌ
دبلی
وَسَبۡعِ
اور سات
سُنۢبُلَـٰتٍ
بالیاں
خُضۡرٍ
سرسبز
وَأُخَرَ
اور دوسری
يَابِسَـٰتٍ
خشک
لَّعَلِّىٓ
تاکہ میں
أَرۡجِعُ
لوٹوں
إِلَى
طرف
ٱلنَّاسِ
لوگوں کی
لَعَلَّهُمۡ
شاید کہ وہ
يَعۡلَمُونَ
جان لیں
٤٦
اے یوسف ! اے راست باز ! ہمیں تعبیر بتائیے سات موٹی گائیوں کے بارے میں کہ انہیں کھا رہی ہیں سات دبلی اور سات سبز بالیوں اور دوسری (سات) خشک بالیوں کے بارے میں تاکہ میں واپس جاؤں (تعبیر لے کر) ان لوگوں کے پاس تاکہ انہیں بھی معلوم ہوجائے
12:47
قَالَ
اس نے کہا
تَزۡرَعُونَ
تم اگاؤ گے۔ کھیتی باڑی کرو گے
سَبۡعَ
سات
سِنِينَ
سال
دَأَبًا
متواتر
فَمَا
تو جو
حَصَدتُّمۡ
تم کاٹو گے
فَذَرُوهُ
تو چھوڑ دینا اس کو
فِى
میں
سُنۢبُلِهِۦٓ
اس کی بالی (میں)
إِلَّا
مگر
قَلِيلاً
تھوڑا
مِّمَّا
اس میں سے جو
تَأۡكُلُونَ
تم کھاتے ہو
٤٧
یوسف نے (تعبیر بتاتے ہوئے) فرمایا کہ تم سات سال تک خوب زراعت کرو گے لگاتار تو (اس دوران میں) جو فصل بھی تم کاٹو اسے رہنے دینا اس کی بالیوں ہی میں سوائے اس قلیل تعداد کے جو تم کھاؤ
12:48
ثُمَّ
پھر
يَأۡتِى
آئیں گے
مِنۢ
کے
بَعۡدِ
بعد
ذٰلِكَ
اس کے
سَبۡعٌ
سات
شِدَادٌ
سخت سال
يَأۡكُلۡنَ
کھا جائیں گے
مَا
جو
قَدَّمۡتُمۡ
پیش کرو گے تم
لَهُنَّ
ان کے لیے
إِلَّا
مگر
قَلِيلاً
تھوڑے
مِّمَّا
اس میں سے جو
تُحۡصِنُونَ
تم روک رکھو گے
٤٨
پھر اس کے بعد سات سال آئیں گے بہت سخت وہ (سات سال) چٹ کر جائیں گے اس کو جو کچھ تم نے ان کے لیے بچا رکھا ہوگا سوائے اس کے جو تم (بیج کے لیے) محفوظ کرلو گے
12:49
ثُمَّ
پھر
يَأۡتِى
آئے گا
مِنۢ
کے
بَعۡدِ
بعد
ذٰلِكَ
اس کے
عَامٌ
ایک سال
فِيهِ
جس میں
يُغَاثُ
فریاد رسی کی جائے گی
ٱلنَّاسُ
لوگوں کی
وَفِيهِ
اور اس میں
يَعۡصِرُونَ
وہ رس نچوڑیں گے
٤٩
پھر آئے گا اس کے بعد ایک سال کہ اس میں خوب بارشیں ہوں گی لوگوں پر اور اس میں وہ (انگور کا) رس نچوڑیں گے
12:50
وَقَالَ
اور کہا
ٱلۡمَلِكُ
بادشاہ نے
ٱئۡتُونِى
میرے پاس لے آؤ
بِهِۦ‌ۖ
اس کو
فَلَمَّا
تو جب
جَآءَهُ
آیا اس کے پاس
ٱلرَّسُولُ
ایلچی۔ پیغام لانے والا
قَالَ
(یوسف نے) کہا
ٱرۡجِعۡ
واپس جاؤ
إِلَىٰ
پاس
رَبِّكَ
اپنے آقا کے
فَسۡــَٔلۡهُ
پھر اس سے پوچھو
مَا
کیا
بَالُ
حال ہے
ٱلنِّسۡوَةِ
عورتوں کا
ٱلَّـٰتِى
جنہوں نے
قَطَّعۡنَ
کاٹ دیے تھے
أَيۡدِيَهُنَّ‌ۚ
اپنے ہاتھ
إِنَّ
بے شک
رَبِّى
میرا رب
بِكَيۡدِهِنَّ
ان کی چال سے
عَلِيمٌ
واقف ہے
٥٠
(یہ سن کر) بادشاہ نے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لے آؤ پھر جب آیا آپ کے پاس ایلچی تو آپ نے فرمایا کہ تم واپس چلے جاؤ اپنے آقا کے پاس اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے یقیناً میرا رب ان کی چالوں سے خوب واقف ہے
12:51
قَالَ
کہا (بادشاہ نے (
مَا
کیا
خَطۡبُكُنَّ
معاملہ ہے تمہارا
إِذۡ
جب
رٰوَدتُّنَّ
تم سب نے پھسلانا چاہا تھا
يُوسُفَ
یوسف کو
عَن
سے
نَّفۡسِهِۦ‌ۚ
اس کے نفس سے
قُلۡنَ
کہنے لگیں
حَـٰشَ
حاش۔پاکی
لِلَّهِ
اللہ۔ پاکی اللہ کے لیے ہے
مَا
نہیں
عَلِمۡنَا
جانا ہم نے
عَلَيۡهِ
اس پر
مِن
کسی
سُوٓءٍ‌ۚ
برائی کو
قَالَتِ
کہنے لگی
ٱمۡرَأَتُ
بیوی
ٱلۡعَزِيزِ
عزیز کی
ٱلۡـَٔـٰنَ
اب
حَصۡحَصَ
واضح ہوگیا
ٱلۡحَقُّ
حق
أَنَاۡ
میں نے
رٰوَدتُّهُۥ
پھسلانا چاہا تھا اس کو
عَن
سے
نَّفۡسِهِۦ
اس کے نفس سے
وَإِنَّهُۥ
اور بیشک وہ
لَمِنَ
البتہ
ٱلصَّـٰدِقِينَ
سچوں میں سے ہے
٥١
اس نے پوچھا کہ کیا معاملہ تھا تمہارا جب تم سب نے پھسلانا چاہا تھا یوسف کو انہوں نے کہا کہ اللہ گواہ ہے ہمارے علم میں اس کے بارے میں کوئی بھی برائی نہیں ہے (اس پر) عزیز کی بیوی بھی بول اٹھی کہ اب حقیقت تو واضح ہو ہی گئی ہے میں نے ہی اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی اور وہ بالکل سچا ہے
12:52
ذٰلِكَ
یہ
لِيَعۡلَمَ
تاکہ وہ جان لے
أَنِّى
بیشک میں
لَمۡ
نہیں
أَخُنۡهُ
میں نے خیانت کی اس کی
بِٱلۡغَيۡبِ
غائبانہ طور پر
وَأَنَّ
اور بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
لَا
نہیں
يَهۡدِى
رہنمائی کرتا
كَيۡدَ
چال کو
ٱلۡخَآئِنِينَ
خیانت کاروں کی
٥٢
یہ اس لیے کہ وہ جان لے کہ میں نے اس کی غیرموجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ یقیناً اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو کامیاب نہیں کرتا
12:53
۞وَمَآ
اور نہیں
أُبَرِّئُ
میں بری الذمہ کرتا
نَفۡسِىٓ‌ۚ
اپنے نفس کو
إِنَّ
بیشک
ٱلنَّفۡسَ
نفس
لَأَمَّارَةُۢ
البتہ بہت حکم دینے والا ہے
بِٱلسُّوٓءِ
برائی کا
إِلَّا
مگر
مَا
اس کے جو
رَحِمَ
رحم کرے
رَبِّىٓ‌ۚ
میرا رب
إِنَّ
رَبِّى
میرا رب
غَفُورٌ
غفور،
رَّحِيمٌ
رحیم ہے
٥٣
اور میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتی یقیناً (انسان کا) نفس تو برائی ہی کا حکم دیتا ہے سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے۔ یقیناً میرا رب بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
12:54
وَقَالَ
اور کہا
ٱلۡمَلِكُ
بادشاہ نے
ٱئۡتُونِى
میرے پاس لاؤ
بِهِۦٓ
اس کو
أَسۡتَخۡلِصۡهُ
میں خالص کرلوں اس کو
لِنَفۡسِى‌ۖ
اپنی ذات کے لئے
فَلَمَّا
تو جب
كَلَّمَهُۥ
اس نے کلام کیا اس سے
قَالَ
کہا
إِنَّكَ
بیشک تو
ٱلۡيَوۡمَ
آج کے دن (سے)
لَدَيۡنَا
ہمارے پاس
مَكِينٌ
رتبے والا ہے
أَمِينٌ
امانت دار ہے
٥٤
اور بادشاہ نے (اب فیصلہ کن انداز میں) کہا کہ اس کو میرے پاس لے آؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا تو جب بادشاہ نے آپ سے بات چیت کی تو کہا کہ آج کے دن سے آپ ہمارے نزدیک بڑے با عزت اور معتبر انسان ہیں
12:55
قَالَ
اس نے کہا
ٱجۡعَلۡنِى
مقدر کر دیجئے مجھ کو
عَلَىٰ
اوپر
خَزَآئِنِ
خزانوں کے
ٱلۡأَرۡضِ‌ۖ
زمین کے
إِنِّى
بیشک میں
حَفِيظٌ
حفاظت کرنے والا ہوں
عَلِيمٌ
علم رکھنے والا ہوں
٥٥
آپ نے فرمایا کہ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کردیں میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور جاننے والا بھی ہوں
12:56
وَكَذٰلِكَ
اور اسی طرح
مَكَّنَّا
اقتدار دیا ہم نے
لِيُوسُفَ
یوسف کو
فِى
میں
ٱلۡأَرۡضِ
زمین
يَتَبَوَّأُ
جگہ بنائے
مِنۡهَا
اس میں سے
حَيۡثُ
جہاں
يَشَآءُ‌ۚ
چاہے
نُصِيبُ
ہم پہنچاتے ہیں
بِرَحۡمَتِنَا
اپنی رحمت کو
مَن
جس کو
نَّشَآءُ‌ۖ
ہم چاہتے ہیں
وَلَا
اور نہیں
نُضِيعُ
ہم ضائع کرتے
أَجۡرَ
اجر
ٱلۡمُحۡسِنِينَ
محسنین کا
٥٦
اور اس طرح ہم نے یوسف کو تمکن عطا کیا (مصر کی) زمین میں کہ وہ اس میں جہاں چاہے اپنا ٹھکانہ بنا لے ہم اپنی رحمت سے نوازتے ہیں جس کو چاہتے ہیں اور ہم نیکو کاروں کا اجرضائع نہیں کرتے
12:57
وَلَأَجۡرُ
اور البتہ اجر
ٱلۡأَخِرَةِ
آخرت کا
خَيۡرٌ
بہتر ہے
لِّلَّذِينَ
ان لوگوں کے لئے
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے
وَكَانُواۡ
اور وہ
يَتَّقُونَ
تقویٰ اختیار کرتے ہیں
٥٧
اور آخرت کا اجر تو بہت ہی بہتر ہے ان کے لیے جو ایمان لائیں اور تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھیں
12:58
وَجَآءَ
اور آئے
إِخۡوَةُ
بھائی
يُوسُفَ
یوسف کے
فَدَخَلُواۡ
پھر وہ داخل ہوئے
عَلَيۡهِ
اس پر
فَعَرَفَهُمۡ
پس اس نے پہچان لیا انہیں
وَهُمۡ
اور وہ
لَهُۥ
اس کے لئے
مُنكِرُونَ
انکار کرنے والے تھے
٥٨
اور آئے یوسف کے بھائی اور آپ کے سامنے پیش ہوئے تو آپ نے انہیں پہچان لیا مگر وہ آپ کو نہیں پہچان پائے
12:59
وَلَمَّا
پھر جب
جَهَّزَهُم
اس نے تیار کیا ان کو
بِجَهَازِهِمۡ
ساتھ ان کے سامان کے
قَالَ
بولے
ٱئۡتُونِى
لانا میرے پاس
بِأَخٍ
بھائی کو
لَّكُم
اپنے
مِّنۡ
سے
أَبِيكُمۡ‌ۚ
جو تمہارے باپ سے ہے
أَلَا
کیا نہیں
تَرَوۡنَ
تم دیکھتے ہو
أَنِّىٓ
بیشک میں
أُوفِى
پورا پورا دیتا ہوں
ٱلۡكَيۡلَ
پیمانہ
وَأَنَاۡ
اور میں
خَيۡرُ
بہترین
ٱلۡمُنزِلِينَ
مہمان نواز ہوں
٥٩
پھر جب آپ نے ان کا سامان تیار کروا دیا تو فرمایا کہ (آئندہ) اپنے اس بھائی کو بھی میرے پاس لے کر آنا جو تمہارے والد سے (تمہارا بھائی) ہے کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں پیمانہ پورا بھر کردیتا ہوں اور بہترین مہمان نوازی کرنے والا بھی ہوں
12:60
فَإِن
پھر
لَّمۡ
اگر نہ
تَأۡتُونِى
تم لائے اس کو
بِهِۦ
میرے پاس
فَلَا
تو نہیں
كَيۡلَ
کوئی پیمانہ / غلہ
لَكُمۡ
تمہارے لئے
عِندِى
میرے پاس
وَلَا
اور نہ
تَقۡرَبُونِ
تم قریب آنا میرے
٦٠
اور اگر تم اسے میرے پاس لے کر نہیں آؤ گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے اور تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا
12:61
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
سَنُرٰوِدُ
عنقریب ہم قائل کریں گے
عَنۡهُ
اس کے بارے میں
أَبَاهُ
اس کے باپ کو
وَإِنَّا
اور بیشک ہم
لَفَـٰعِلُونَ
البتہ کرنے والے ہیں
٦١
انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد کو آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ہم یہ ضرور کر کے رہیں گے
12:62
وَقَالَ
اور کہا
لِفِتۡيَـٰنِهِ
اپنے غلاموں کو
ٱجۡعَلُواۡ
رکھ دو
بِضَـٰعَتَهُمۡ
ان کی پونجی کو/ سامان کو
فِى
میں
رِحَالِهِمۡ
ان کی خُرجیوں
لَعَلَّهُمۡ
شاید کہ وہ
يَعۡرِفُونَهَآ
اس کو پہچان جائیں
إِذَا
جب وہ
ٱنقَلَبُوٓاۡ
پلٹیں
إِلَىٰٓ
اپنے
أَهۡلِهِمۡ
گھر والوں کی طرف
لَعَلَّهُمۡ
شاید کہ وہ
يَرۡجِعُونَ
لوٹ آئیں
٦٢
اور یوسف نے اپنے نوجوانوں سے کہا کہ ان کی پونجی (بھی واپس) ان کے کجاو وں میں رکھ دو تاکہ وہ پہچانیں ان کو جب لوٹیں اپنے اہل و عیال کی طرف شاید کہ (اس طرح) وہ دوبارہ آئیں
12:63
فَلَمَّا
تو جب
رَجَعُوٓاۡ
وہ لوٹے
إِلَىٰٓ
طرف
أَبِيهِمۡ
اپنے باپ کی
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
يَـٰٓأَبَانَا
اے ہمارے ابا جان
مُنِعَ
روکا گیا
مِنَّا
ہم سے
ٱلۡكَيۡلُ
غلہ
فَأَرۡسِلۡ
تو بھیج دیجئے
مَعَنَآ
ہمارے ساتھ
أَخَانَا
ہمارے بھائی کو
نَكۡتَلۡ
ہم غلہ لائیں
وَإِنَّا
اور بیشک ہم
لَهُۥ
اس کے لئے
لَحَـٰفِظُونَ
البتہ حفاظت کرنے والے ہیں
٦٣
پھر جب وہ لوٹے اپنے والد کے پاس تو کہنے لگے : ابا جان ! ہم سے (ایک) پیمانہ روک لیا گیا ہے تو (آئندہ) ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجئے گا تاکہ ہم (اس کے حصے کا بھی) غلہ لے کر آئیں اور ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے
12:64
قَالَ
کہا
هَلۡ
کیا
ءَامَنُكُمۡ
میں بھروسہ کرلوں تم پر
عَلَيۡهِ
اس کے معاملے میں
إِلَّا
مگر
كَمَآ
جیسا کہ
أَمِنتُكُمۡ
میں نے بھروسہ کیا تم پر
عَلَىٰٓ
معاملے میں
أَخِيهِ
اس کے بھائی کے
مِن
اس سے
قَبۡلُ‌ۖ
قبل
فَٱللَّهُ
پس اللہ
خَيۡرٌ
بہترین
حَـٰفِظًا‌ۖ
حفاظت کرنے والا ہے
وَهُوَ
اور وہ
أَرۡحَمُ
سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
ٱلرّٰحِمِينَ
سب رحم کرنے والوں (سے)
٦٤
یعقوب نے فرمایا کہ کیا میں اس کے بارے میں اسی طرح تم پر اعتبار کرلوں جیسے میں نے اس کے بھائی (یوسف) کے بارے میں پہلے تم پر اعتبار کیا تھا (ویسے تو) اللہ ہی بہترین محافظ ہے اور وہی تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
12:65
وَلَمَّا
اور جب
فَتَحُواۡ
انہوں نے کھولا
مَتَـٰعَهُمۡ
اپنے سامان کو
وَجَدُواۡ
انہوں نے پایا
بِضَـٰعَتَهُمۡ
اپنا سرمایہ
رُدَّتۡ
لوٹادیا گیا تھا
إِلَيۡهِمۡ‌ۖ
ان کی طرف
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
يَـٰٓأَبَانَا
اے ہمارے ابا جان
مَا
کیا
نَبۡغِى‌ۖ
ہم (اور) چاہتے ہیں
هَـٰذِهِۦ
یہ ہماری
بِضَـٰعَتُنَا
پونچی ہے
رُدَّتۡ
لوٹائی گئی ہے
إِلَيۡنَا‌ۖ
ہماری طرف
وَنَمِيرُ
اور ہم غلہ لائیں گے
أَهۡلَنَا
اپنے گھر والوں کے لئے
وَنَحۡفَظُ
اور ہم حفاظت کریں گے
أَخَانَا
اپنے بھائی کی
وَنَزۡدَادُ
اور ہم زیادہ لائیں گے
كَيۡلَ
بھر غلہ
بَعِيرٍ‌ۖ
اونٹ
ذٰلِكَ
یہ
كَيۡلٌ
غلہ ہے
يَسِيرٌ
آسان
٦٥
اور جب انہوں نے کھولا اپنا سامان تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی پونچی انہیں لوٹا دی گئی ہے وہ پکار اٹھے : ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہیے ؟ یہ ہماری پونجی بھی ہمیں لوٹا دی گئی ہے (اب ہم جائیں گے) اور اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ زیادہ لائیں گے۔ یہ (ایک اضافی) بوجھ (لانا تو اب) بہت آسان ہے
12:66
قَالَ
کہا
لَنۡ
ہرگز نہ
أُرۡسِلَهُۥ
میں بھیجوں گا اس کو
مَعَكُمۡ
تمہارے ساتھ
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
تُؤۡتُونِ
تم دو مجھ کو
مَوۡثِقًا
پختہ وعدہ اپنا
مِّنَ
طرف سے
ٱللَّهِ
اللہ کی
لَتَأۡتُنَّنِى
البتہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاس
بِهِۦٓ
اس کو
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
يُحَاطَ
گھیر لیا جائے
بِكُمۡ‌ۖ
تمہیں
فَلَمَّآ
پھر جب
ءَاتَوۡهُ
انہوں نے دیا اس کو
مَوۡثِقَهُمۡ
پختہ وعدہ اپنا
قَالَ
اس نے کہا
ٱللَّهُ
اللہ
عَلَىٰ
اس پر
مَا
جو
نَقُولُ
ہم کہتے ہیں
وَكِيلٌ
کار ساز ہے/ نگہبان ہے
٦٦
یعقوب نے فرمایا : میں اسے (واپس) ہرگز نہیں بھیجوں گا تمہارے ساتھ یہاں تک کہ تم میرے سامنے پختہ قسم کھاؤ اللہ کی کہ تم لازماً اسے لے کر آؤ گے میرے پاس سوائے اس کے کہ تم سب کو گھیرے میں لے لیاجائے پھر جب انہوں نے آپ کو اپنا پختہ قول وقرار دے دیا تو یعقوب نے فرمایا کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے
12:67
وَقَالَ
اور اس نے کہا
يَـٰبَنِىَّ
اے میرے بچو
لَا
نہ
تَدۡخُلُواۡ
تم داخل ہونا
مِنۢ
سے
بَابٍ
دروازے
وٰحِدٍ
ایک
وَٱدۡخُلُواۡ
بلکہ داخل ہونا
مِنۡ
سے
أَبۡوٰبٍ
دروازوں
مُّتَفَرِّقَةٍ‌ۖ
مختلف
وَمَآ
اور نہیں
أُغۡنِى
میں بچا سکتا
عَنكُم
تم کو
مِّنَ
سے
ٱللَّهِ
اللہ
مِن
کسی
شَىۡءٍ‌ۖ
چیز سے
إِنِ
نہیں
ٱلۡحُكۡمُ
فیصلہ
إِلَّا
مگر
لِلَّهِ‌ۖ
اللہ کے لئے
عَلَيۡهِ
اسی پر
تَوَكَّلۡتُ‌ۖ
میں نے توکل کیا
وَعَلَيۡهِ
اور اسی پر
فَلۡيَتَوَكَّلِ
پس چاہیے کہ توکل کیا کریں
ٱلۡمُتَوَكِّلُونَ
توکل کرنے والے
٦٧
اور آپ نے کہا : اے میرے بیٹو ! تم لوگ ایک دروازے سے (شہر میں) داخل نہ ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہونا اور میں تم کو بچا نہیں سکتا اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے اسی پر میں نے توکلّ کیا ہے اور تمام توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چاہیے
12:68
وَلَمَّا
اور جب
دَخَلُواۡ
وہ داخل ہوئے
مِنۡ
سے
حَيۡثُ
جہاں
أَمَرَهُمۡ
حکم دیا تھا ان کو
أَبُوهُم
ان کے باپ نے
مَّا
نہ
كَانَ
تھا کہ
يُغۡنِى
کام آتا
عَنۡهُم
ان کو
مِّنَ
سے
ٱللَّهِ
اللہ
مِن
شَىۡءٍ
کچھ بھی
إِلَّا
مگر
حَاجَةً
ایک حاجت تھی
فِى
میں
نَفۡسِ
دل (میں)
يَعۡقُوبَ
یعقوب کے
قَضَـٰهَا‌ۚ
اس نے پورا کیا اس کو
وَإِنَّهُۥ
اور بیشک وہ
لَذُو
والا تھا
عِلۡمٍ
البتہ علم
لِّمَا
واسطے اس کے جو
عَلَّمۡنَـٰهُ
سکھایا تھا ہم نے اس کو
وَلَـٰكِنَّ
لیکن
أَكۡثَرَ
اکثر
ٱلنَّاسِ
لوگ
لَا
نہیں
يَعۡلَمُونَ
علم رکھتے
٦٨
تو جب وہ داخل ہوئے جہاں سے انہیں حکم دیا تھا ان کے والد نے وہ (یعقوب) بچانے والا نہیں تھا ان کو اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی سوائے اس کے کہ یعقوب کے دل میں ایک خیال تھا جو اس نے اسے پورا کرلیا اور یقیناً آپ صاحب علم تھے اس علم کے اعتبار سے جو ہم نے آپ کو سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
12:69
وَلَمَّا
اور جب
دَخَلُواۡ
وہ داخل ہوئے
عَلَىٰ
پر
يُوسُفَ
یوسف
ءَاوَىٰٓ
ٹھہرایا
إِلَيۡهِ
اپنے پاس/ اپنی طرف
أَخَاهُ‌ۖ
اپنے بھائی کو
قَالَ
اس نے کہا
إِنِّىٓ
بیشک میں
أَنَاۡ
میں ہی
أَخُوكَ
تیرا بھائی ہوں
فَلَا
پس نہ
تَبۡتَئِسۡ
رنج کر
بِمَا
بوجہ اس کے
كَانُواۡ
جو تھے وہ
يَعۡمَلُونَ
عمل کرتے
٦٩
اور جب وہ آئے یوسف کے پاس تو آپ نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتادیا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو اب مت غمگین ہونا اس پر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں
12:70
فَلَمَّا
پھر جب
جَهَّزَهُم
اس نے تیار کرکے دیا ان کو
بِجَهَازِهِمۡ
ان کا سامان
جَعَلَ
اس نے رکھ دیا
ٱلسِّقَايَةَ
پانی کا ایک پیالہ/ آب خوردہ
فِى
میں
رَحۡلِ
سامان م (میں)
أَخِيهِ
اپنے بھائی کے
ثُمَّ
پھر
أَذَّنَ
پکارا
مُؤَذِّنٌ
ایک پکارنے والے نے
أَيَّتُهَا
اے
ٱلۡعِيرُ
قافلے والو
إِنَّكُمۡ
بیشک تم
لَسَـٰرِقُونَ
البتہ چور ہو
٧٠
پھر جب آپ نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کرا دیا تو رکھ دیا پینے کا پیالہ اپنے بھائی کے سامان میں پھر ایک پکارنے والے نے پکار لگائی کہ اے قافلے والو ! تم لوگ چور ہو
12:71
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
وَأَقۡبَلُواۡ
اور وہ آئے / متوجہ ہوئے
عَلَيۡهِم
ان پر
مَّاذَا
کیا کچھ
تَفۡقِدُونَ
تم گم پاتے ہو
٧١
انہوں نے پوچھا ان کی طرف مڑ کر کہ آپ کی کیا چیز گم ہوئی ہے
12:72
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
نَفۡقِدُ
ہم گم پاتے ہیں
صُوَاعَ
پیمانہ
ٱلۡمَلِكِ
بادشاہ کا
وَلِمَن
اور واسطے اس کے
جَآءَ
جولائے
بِهِۦ
اس کو
حِمۡلُ
بوجھ ہے
بَعِيرٍ
ایک اونٹ کا
وَأَنَاۡ
اور میں
بِهِۦ
ساتھ اس کے ذمہ دار ہوں
زَعِيمٌ
کفیل ہوں
٧٢
انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں بادشاہ کا جام زریں نہیں مل رہا اور جو اسے لے آئے گا اسے ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر غلہ دیا جائے گا اور میں اس کا ذمہ دار ہوں
12:73
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
تَٱللَّهِ
اللہ کی قسم
لَقَدۡ
البتہ تحقیق
عَلِمۡتُم
جان لیا تم نے
مَّا
نہیں
جِئۡنَا
آئے تھے ہم
لِنُفۡسِدَ
کہ ہم فساد کریں
فِى
میں
ٱلۡأَرۡضِ
زمین
وَمَا
اور نہیں ہیں
كُنَّا
ہم
سَـٰرِقِينَ
چور
٧٣
انہوں نے کہا : اللہ کی قسم آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ ہم زمین میں فساد مچانے نہیں آئے اور ہم چوری کرنے والے ہرگز نہیں ہیں
12:74
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
فَمَا
تو کیا
جَزٰٓؤُهُۥٓ
بدلہ ہے اس کا / سزا ہے اس کی
إِن
اگر
كُنتُمۡ
ہو تم
كَـٰذِبِينَ
جھوٹے
٧٤
انہوں (شاہی ملازمین) نے کہا کہ پھر اس (چور) کی کیا سزا ہوگی اگر تم لوگ جھوٹے ہوئے
12:75
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
جَزٰٓؤُهُۥ
اس کی جزاء /اس کا بدلہ
مَن
وہ ہے
وُجِدَ
جو وہ پایا گیا ہے
فِى
میں
رَحۡلِهِۦ
اس کے سامان
فَهُوَ
تو وہی
جَزٰٓؤُهُۥ‌ۚ
بدلہ ہے اس کا
كَذٰلِكَ
اس طرح
نَجۡزِى
ہم بدلہ دیتے ہیں
ٱلظَّـٰلِمِينَ
ظالموں کو
٧٥
انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں وہ (جام زریں) پایا جائے وہ خود ہی اس کا بدلہ ہوگا۔ ہم تو اسی طریقے سے ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں
12:76
فَبَدَأَ
تو وہ شروع ہوگیا
بِأَوۡعِيَتِهِمۡ
ان کے تھیلوں کے ساتھ
قَبۡلَ
پہلے
وِعَآءِ
تھیلے کے
أَخِيهِ
اپنے بھائی کے
ثُمَّ
پھر
ٱسۡتَخۡرَجَهَا
نکال لیا اس کو
مِن
سے
وِعَآءِ
تھیلے
أَخِيهِ‌ۚ
اپنے بھائی کے
كَذٰلِكَ
اسی طرح
كِدۡنَا
تدبیر کی ہم
لِيُوسُفَ‌ۖ
یوسف کے لئے
مَا
نہ
كَانَ
تھا
لِيَأۡخُذَ
کے لے لے
أَخَاهُ
اپنے بھائی کو
فِى
میں
دِينِ
دین
ٱلۡمَلِكِ
بادشاہ کے
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
يَشَآءَ
چاہتا ہے
ٱللَّهُ‌ۚ
اللہ
نَرۡفَعُ
ہم بلند کرتے ہیں
دَرَجَـٰتٍ
درجے
مَّن
جس کے
نَّشَآءُ‌ۗ
ہم چاہتے ہیں
وَفَوۡقَ
اور اوپر
كُلِّ
ہر
ذِى
والے کے
عِلۡمٍ
علم
عَلِيمٌ
ایک علم والا ہے
٧٦
تو آپ نے (تلاشی) شروع کی ان کے بوروں کی اپنے بھائی کے بورے سے پہلے پھر آپ نے نکال لیا وہ (جام) اپنے بھائی کے سامان سے اس طرح سے ہم نے تدبیر کی یوسف کے لیے آپ کے لیے ممکن نہیں تھا کہ اپنے بھائی کو روکتے بادشاہ کے قانون کے مطابق سوائے اس کے کہ اللہ چاہے ہم درجے بلند کرتے ہیں جس کے چاہتے ہیں۔ اور ہر صاحب علم کے اوپر کوئی اور صاحب علم بھی ہے
12:77
۞قَالُوٓاۡ
انہوں نے کہا
إِن
اگر
يَسۡرِقۡ
اس نے چوری کی ہے
فَقَدۡ
تو تحقیق
سَرَقَ
چوری کی تھی
أَخٌ
بھائی نے
لَّهُۥ
اس کے
مِن
اس کے
قَبۡلُ‌ۚ
قبل
فَأَسَرَّهَا
تو چھپالیا اس بات کو
يُوسُفُ
یوسف نے
فِى
میں
نَفۡسِهِۦ
اپنے دل
وَلَمۡ
اور نہیں
يُبۡدِهَا
ظاہر کیا اس کو
لَهُمۡ‌ۚ
ان کے لئیے
قَالَ
کہا
أَنتُمۡ
تم
شَرٌّ
برے ہو
مَّكَانًا‌ۖ
مقام میں
وَٱللَّهُ
اور اللہ
أَعۡلَمُ
خوب جانتا ہے
بِمَا
ساتھ اس کے
تَصِفُونَ
جو کچھ تم بیان کر رہے ہو
٧٧
انہوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کا بھائی بھی چوری کرچکا ہے اس کو چھپائے رکھا یوسف نے اپنے جی میں اور ان پر ظاہر نہیں ہونے دیا آپ نے (دل ہی دل میں) کہا کہ تم بجائے خود بہت برے لوگ ہو اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے
12:78
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
يَـٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلۡعَزِيزُ
عزیز
إِنَّ
بیشک
لَهُۥٓ
اس کا
أَبًا
باپ
شَيۡخًا
بوڑھا ہے
كَبِيرًا
بڑا
فَخُذۡ
پس لے لے
أَحَدَنَا
ہم میں سے کسی ایک کو
مَكَانَهُۥٓ‌ۖ
اس کی جگہ
إِنَّا
بیشک ہم
نَرَٮٰكَ
ہم دیکھتے ہیں تجھ کو
مِنَ
میں سے
ٱلۡمُحۡسِنِينَ
محسنین
٧٨
وہ کہنے لگے : اے عزیز (صاحب اختیار) ! اس کا والد جو ہے بہت بوڑھا ہے تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ بڑے ہی نیک انسان ہیں
12:79
قَالَ
اس نے کہا
مَعَاذَ
پناہ
ٱللَّهِ
اللہ کی
أَن
کہ ہم
نَّأۡخُذَ
لیں
إِلَّا
مگر
مَن
اسے
وَجَدۡنَا
جس کو پایا ہم نے
مَتَـٰعَنَا
اپنا سامان
عِندَهُۥٓ
اس کے پاس
إِنَّآ
بیشک ہم
إِذًا
تب البتہ
لَّظَـٰلِمُونَ
ظالم ہوں گے
٧٩
یوسف نے فرمایا : اللہ کی پناہ اس بات سے کہ ہم پکڑ لیں کسی اور کو اس شخص کے بجائے جس کے پاس سے ہم نے اپنا مال برآمد کیا ہے یقیناً اس صورت میں تو ہم ظالم ہوں گے
12:80
فَلَمَّا
پھر جب
ٱسۡتَيۡــَٔسُواۡ
وہ مایوس ہوگئے
مِنۡهُ
اس سے
خَلَصُواۡ
اکیلے بیٹھے
نَجِيًّا‌ۖ
سرگوشیاں کرنے کو/ مشورہ کرنے کو
قَالَ
کہا
كَبِيرُهُمۡ
ان کے بڑے نے
أَلَمۡ
کیانہیں
تَعۡلَمُوٓاۡ
تم جانتے ہو
أَنَّ
کہ
أَبَاكُمۡ
تمہارے والد نے
قَدۡ
تحقیق
أَخَذَ
لیا
عَلَيۡكُم
تم پر
مَّوۡثِقًا
پکا وعدہ
مِّنَ
نام سے
ٱللَّهِ
اللہ کے
وَمِن
اور اس سے
قَبۡلُ
پہلے
مَا
جو
فَرَّطتُمۡ
کوتاہی کی تم نے
فِى
میں
يُوسُفَ‌ۖ
یوسف کے معاملے
فَلَنۡ
تو ہرگز نہ
أَبۡرَحَ
میں ٹلوں گا
ٱلۡأَرۡضَ
اس زمین سے
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يَأۡذَنَ
اجازت دے
لِىٓ
مجھ کو
أَبِىٓ
میرا باپ
أَوۡ
یا
يَحۡكُمَ
فیصلہ کردے
ٱللَّهُ
اللہ
لِى‌ۖ
میرے لئے
وَهُوَ
اور وہ
خَيۡرُ
بہترین
ٱلۡحَـٰكِمِينَ
فیصلہ کرنے والا ہے
٨٠
پھر جب وہ یو سف سے مایوس ہوگئے تو علیحدگی میں جا کر مشورہ کرنے لگے ان کے بڑے نے کہا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کے نام پر پختہ عہد لیا ہوا ہے اور (کیا تم نہیں جانتے) جو زیادتی اس سے پہلے تم یوسف کے معاملے میں کرچکے ہو اب میں تو اس سر زمین سے نہیں ہلوں گا یہاں تک کہ میرے والد خود مجھے اجازت دے دیں یا پھر اللہ ہی میرے بارے میں کوئی فیصلہ کردے اور یقیناً وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے
12:81
ٱرۡجِعُوٓاۡ
لوٹ آؤ
إِلَىٰٓ
طرف
أَبِيكُمۡ
اپنے باپ کی
فَقُولُواۡ
پھر کہو
يَـٰٓأَبَانَآ
اے ہمارے ابا جان
إِنَّ
بیشک
ٱبۡنَكَ
تیرے بیٹے نے
سَرَقَ
چوری کی ہے
وَمَا
اور ہم نے
شَهِدۡنَآ
دیکھا نہیں
إِلَّا
مگر
بِمَا
جو ہم کو
عَلِمۡنَا
معلوم ہوا
وَمَا
اور نہیں
كُنَّا
ہیں ہم
لِلۡغَيۡبِ
غیب کے لئے
حَـٰفِظِينَ
حفاظت کرنے والے
٨١
تم لوٹ جاؤ اپنے والد کے پاس اور (جا کر) کہو کہ ابا جان ! آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم گواہی نہیں دے سکتے مگر اسی چیز کی جس کے بارے میں ہمیں علم ہے اور ہم غیب کے نگہبان نہیں ہیں
12:82
وَسۡــَٔلِ
اور پوچھ لو
ٱلۡقَرۡيَةَ
بستی والوں سے
ٱلَّتِى
وہ جو
كُنَّا
تھے ہم
فِيهَا
اس میں
وَٱلۡعِيرَ
اور اہل قافلہ سے
ٱلَّتِىٓ
وہ جو
أَقۡبَلۡنَا
ہم آئے ہیں
فِيهَا‌ۖ
اس میں
وَإِنَّا
اور بیشک ہم
لَصَـٰدِقُونَ
البتہ سچے ہیں
٨٢
آپ اس بستی (والوں) سے پوچھ لیں جس میں ہم تھے اور اس قافلے (والوں) سے جن کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ اور ہم (اپنے بیان میں) بالکل سچے ہیں
12:83
قَالَ
کہا
بَلۡ
بلکہ
سَوَّلَتۡ
آسان کردیا
لَكُمۡ
تمہارے لئے
أَنفُسُكُمۡ
تمہارے نفسوں نے
أَمۡرًا‌ۖ
ایک کام کو
فَصَبۡرٌ
تو صبر ہی
جَمِيلٌ‌ۖ
اچھا ہے
عَسَى
امید ہے کہ
ٱللَّهُ
اللہ
أَن
يَأۡتِيَنِى
لے آئے گا میرے پاس
بِهِمۡ
ان کو
جَمِيعًا‌ۚ
سب کے سب کو
إِنَّهُۥ
کیونکہ وہ
هُوَ
وہ
ٱلۡعَلِيمُ
علم والا
ٱلۡحَكِيمُ
حکمت والا ہے
٨٣
آپ نے فرمایا : (نہیں !) بلکہ تمہارے لیے تمہارے نفسوں نے ایک کام آسان کردیا ہے پس صبر ہی بہتر ہے ہوسکتا ہے اللہ ان سب کو لے آئے میرے پاس۔ یقیناً وہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے
12:84
وَتَوَلَّىٰ
اور اس نے منہ پھیرلیا
عَنۡهُمۡ
ان سے
وَقَالَ
اور بولا
يَـٰٓأَسَفَىٰ
ہائے افسوس
عَلَىٰ
پر
يُوسُفَ
یوسف
وَٱبۡيَضَّتۡ
اور سفید ہوگئیں
عَيۡنَاهُ
اس کی دونوں آنکھیں
مِنَ
سے
ٱلۡحُزۡنِ
غم کی وجہ
فَهُوَ
تو وہ
كَظِيمٌ
سخت غمگین تھے
٨٤
اور آپ نے ان سے رخ پھیرلیا اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف پر ! (اور رونا شروع کردیا) اور صدمے سے آپ کی آنکھیں سفید پڑگئی تھیں کیونکہ آپ غم کو (اندر ہی اندر) پیتے رہتے تھے
12:85
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
تَٱللَّهِ
قسم اللہ کی
تَفۡتَؤُاۡ
تو ہمیشہ رہتا ہے
تَذۡكُرُ
ذکر کرتا/ یاد کرتا
يُوسُفَ
یوسف کو
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
تَكُونَ
تو ہوجائے
حَرَضًا
بیمار/ بیکار
أَوۡ
یا
تَكُونَ
تو ہوجائے
مِنَ
میں سے
ٱلۡهَـٰلِكِينَ
ہلاک ہونے والوں
٨٥
انہوں نے کہا : (ابا جان !) اللہ کی قسم آپ تو یوسف ہی کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آپ یا تو (اسی صدمے میں) گھل جائیں گے یا فوت ہوجائیں گے
12:86
قَالَ
اس نے کہا
إِنَّمَآ
بیشک
أَشۡكُواۡ
میں شکایت کرتاہوں
بَثِّى
اپنی پریشانی کی
وَحُزۡنِىٓ
اور اپنے غم کی
إِلَى
طرف
ٱللَّهِ
اللہ کی
وَأَعۡلَمُ
اور میں جانتا ہوں
مِنَ
سے
ٱللَّهِ
اللہ کی طرف (سے)
مَا
جو
لَا
نہیں
تَعۡلَمُونَ
تم جانتے
٨٦
یعقوب نے فرمایا : میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم لوگ نہیں جانتے ہو
12:87
يَـٰبَنِىَّ
اے میرے بچو !
ٱذۡهَبُواۡ
جاؤ
فَتَحَسَّسُواۡ
پس ٹوہ لگاؤ
مِن
سے
يُوسُفَ
یوسف کی
وَأَخِيهِ
اور اس کے بھائی کی
وَلَا
اور مت
تَاۡيۡــَٔسُواۡ
مایوس ہو
مِن
سے
رَّوۡحِ
رحمت
ٱللَّهِ‌ۖ
اللہ کی
إِنَّهُۥ
کیونکہ
لَا
نہیں
يَاۡيۡــَٔسُ
مایوس ہوتے
مِن
سے
رَّوۡحِ
رحمت
ٱللَّهِ
اللہ کی
إِلَّا
سوائے
ٱلۡقَوۡمُ
قوم کے
ٱلۡكَـٰفِرُونَ
کافر
٨٧
اے میرے بیٹو ! جاؤ اور تلاش کرو یوسف کو بھی اور اس کے بھائی کو بھی اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا یقیناً اللہ کی رحمت سے مایوس تو بس کافر ہی ہوتے ہیں
12:88
فَلَمَّا
پھر جب
دَخَلُواۡ
وہ داخل ہوئے
عَلَيۡهِ
اس پر
قَالُواۡ
کہنے لگے
يَـٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلۡعَزِيزُ
عزیز
مَسَّنَا
پہنچی ہم کو
وَأَهۡلَنَا
اور ہمارے گھر والوں کو
ٱلضُّرُّ
تکلیف
وَجِئۡنَا
اور لائے ہیں ہم
بِبِضَـٰعَةٍ
پونچی
مُّزۡجَـٰةٍ
حقیر سی
فَأَوۡفِ
پس پورا پورا دے دیجئے
لَنَا
ہم کو
ٱلۡكَيۡلَ
پیمانہ
وَتَصَدَّقۡ
اور صدقہ کر
عَلَيۡنَآ‌ۖ
ہم پر
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
يَجۡزِى
جزا دیتا ہے
ٱلۡمُتَصَدِّقِينَ
صدقہ کرنے والوں کو
٨٨
پھر جب وہ لوگ یوسف کے ہاں پہنچے انہوں نے کہا : اے عزیز (صاحب اختیار) ! ہم پر اور ہمارے اہل و عیال پر بڑی سختی آگئی ہے اور ہم بہت حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں لیکن (اس کے باوجود) آپ ہمارے لیے پیمانے پورے بھر کردیجیے اور ہمیں خیرات بھی دیجیے یقیناً اللہ صدقہ دینے والوں کو جزاد یتا ہے
12:89
قَالَ
اس نے کہا
هَلۡ
کیا
عَلِمۡتُم
تم جانتے ہو
مَّا
کیا
فَعَلۡتُم
کیا تھا تم نے
بِيُوسُفَ
یوسف کے ساتھ
وَأَخِيهِ
اور اس کے بھائی کے
إِذۡ
جب
أَنتُمۡ
تھے تم
جَـٰهِلُونَ
لاعلم
٨٩
آپ نے پوچھا : کیا تم لوگوں کو یاد ہے کہ تم نے کیا کیا تھا یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ جب کہ تم نادان تھے
12:90
قَالُوٓاۡ
انہوں نے کہا
أَءِنَّكَ
کیا بیشک تو
لَأَنتَ
التبہ تو ہی
يُوسُفُ‌ۖ
یوسف ہے
قَالَ
اس نے کہا
أَنَاۡ
میں
يُوسُفُ
یوسف ہوں
وَهَـٰذَآ
اور یہ
أَخِى‌ۖ
میرا بھائی ہے
قَدۡ
تحقیق
مَنَّ
احسان کیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
عَلَيۡنَآ‌ۖ
ہم پر
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
مَن
جو
يَتَّقِ
تقویٰ اختیار کرے
وَيَصۡبِرۡ
اور صبر کرے
فَإِنَّ
تو یقیناً
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
لَا
نہیں
يُضِيعُ
ضائع کرتا
أَجۡرَ
اجر
ٱلۡمُحۡسِنِينَ
محسنین کا
٩٠
انہوں نے کہا : تو کیا آپ یوسف ہیں ؟ یوسف نے فرمایا : ہاں ! میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ یقیناً جو شخص تقویٰ کی روش اختیار کرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ ایسے نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا
12:91
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
تَٱللَّهِ
اللہ کی قسم
لَقَدۡ
البتہ تحقیق
ءَاثَرَكَ
ترجیح دی تجھ کو
ٱللَّهُ
اللہ نے
عَلَيۡنَا
ہم پر
وَإِن
اور بیشک
كُنَّا
تھے ہم
لَخَـٰطِــِٔينَ
البتہ خطا کار
٩١
انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور یقیناً ہم ہی خطاکار تھے
12:92
قَالَ
اس نے کہا
لَا
نہیں
تَثۡرِيبَ
کوئی الزام
عَلَيۡكُمُ
تم پر
ٱلۡيَوۡمَ‌ۖ
آج
يَغۡفِرُ
معاف کردے
ٱللَّهُ
اللہ
لَكُمۡ‌ۖ
تم کو
وَهُوَ
اور وہ
أَرۡحَمُ
سب سے بڑھ کر
ٱلرّٰحِمِينَ
رحم فرمانے والا ہے
٩٢
یوسف نے فرمایا : آج کے دن تم لوگوں پر کوئی ملامت نہیں اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
12:93
ٱذۡهَبُواۡ
لے جاؤ
بِقَمِيصِى
میری قمیص کو
هَـٰذَا
اس کو
فَأَلۡقُوهُ
پھر ڈال دو اس کو
عَلَىٰ
پر
وَجۡهِ
چہرے
أَبِى
میرے باپ کے
يَأۡتِ
آجائے گا
بَصِيرًا
دیکھنے والا
وَأۡتُونِى
اور لے آؤ میرے پاس
بِأَهۡلِكُمۡ
اپنے گھر والوں کو
أَجۡمَعِينَ
سب کے سب کو
٩٣
تم میری یہ قمیص لے جاؤ اور (جا کر) اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو آپ کی بصارت لوٹ آئے گی اور تم لے آؤ میرے پاس اپنے تمام اہل خانہ کو
12:94
وَلَمَّا
اور جب
فَصَلَتِ
جدا ہوا
ٱلۡعِيرُ
قافلہ
قَالَ
کہا
أَبُوهُمۡ
ان کے باپ نے
إِنِّى
بیشک میں
لَأَجِدُ
البتہ میں پاتا ہوں
رِيحَ
خوشبو
يُوسُفَ‌ۖ
یوسف کی
لَوۡلَآ
اگر نہیں
أَن
یہ کہ
تُفَنِّدُونِ
تم بہکا ہوا کہو مجھے
٩٤
اور جب قافلہ چلا (مصر سے تو) ان کے والدنے فرمایا : مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے اگر تم لوگ یہ نہ کہو کہ میں سٹھیا گیا ہوں
12:95
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
تَٱللَّهِ
قسم اللہ کی
إِنَّكَ
بیشک تو
لَفِى
البتہ میں ہو
ضَلَـٰلِكَ
اپنے خبط
ٱلۡقَدِيمِ
پرانے
٩٥
انہوں (گھر والوں) نے کہا : اللہ کی قسم ! آپ تو اپنے اسی پرانے خبط ہی میں مبتلا ہیں
12:96
فَلَمَّآ
پھر جب
أَن
یہ کہ
جَآءَ
آگیا
ٱلۡبَشِيرُ
خوش خبری دینے والا
أَلۡقَـٰهُ
اس نے ڈالا اس کو
عَلَىٰ
پر
وَجۡهِهِۦ
اس کے چہرے
فَٱرۡتَدَّ
تو ہوگیا وہ
بَصِيرًا‌ۖ
دیکھنے والا
قَالَ
اس نے کہا
أَلَمۡ
کیا نہیں
أَقُل
میں نے کہا تھا
لَّكُمۡ
تم سے
إِنِّىٓ
بیشک میں
أَعۡلَمُ
جانتا ہوں
مِنَ
طرف سے
ٱللَّهِ
اللہ کی
مَا
جو
لَا
نہیں
تَعۡلَمُونَ
تم جانتے
٩٦
تو جب آیا بشارت دینے والا اور اس نے ڈالا اس (قمیص) کو یعقوب کے چہرے پر تو آپ پھر سے ہوگئے دیکھنے والے آپ نے فرمایا : کیا میں تم سے کہتا نہیں تھا کہ مجھے اللہ کی طرف سے ان چیزوں کا علم ہے جو تم نہیں جانتے
12:97
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
يَـٰٓأَبَانَا
اے ہمارے ابا جان
ٱسۡتَغۡفِرۡ
بخشش مانگئے
لَنَا
ہمارے لئے
ذُنُوبَنَآ
ہمارے گناہوں کی
إِنَّا
بیشک ہم
كُنَّا
تھے ہم
خَـٰطِــِٔينَ
خطا کار
٩٧
انہوں نے کہا : ابا جان ! ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی مغفرت طلب کیجئے یقیناً ہم ہی خطاکار تھے
12:98
قَالَ
کہا
سَوۡفَ
عنقریب
أَسۡتَغۡفِرُ
میں بخشش مانگوں گا
لَكُمۡ
تمہارے لیئے
رَبِّىٓ‌ۖ
اپنے رب سے
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
هُوَ
وہ
ٱلۡغَفُورُ
غفور،
ٱلرَّحِيمُ
رحیم ہے
٩٨
آپ نے فرمایا : عنقریب میں مغفرت طلب کروں گا تمہارے لیے اپنے رب سے یقیناً وہی ہے بخشش والا بہت رحم کرنے والا
12:99
فَلَمَّا
تو جب
دَخَلُواۡ
وہ داخل ہوئے
عَلَىٰ
اوپر
يُوسُفَ
یوسف کے
ءَاوَىٰٓ
اس نے پناہ دی/ بٹھالیا اپنے
إِلَيۡهِ
اپنے پاس
أَبَوَيۡهِ
اپنے والدین کو
وَقَالَ
اور کہا
ٱدۡخُلُواۡ
داخل ہوجاؤ
مِصۡرَ
شہر میں
إِن
اگر
شَآءَ
چاہا
ٱللَّهُ
اللہ نے
ءَامِنِينَ
امن والے ہوگے
٩٩
پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے جگہ دی اپنے پاس اپنے والدین کو اور کہا کہ اب آپ لوگ مصر میں داخل ہوجائیں اللہ نے چاہا تو پورے امن و چین کے ساتھ (یہاں رہیں)
12:100
وَرَفَعَ
اور اوپر بٹھایا
أَبَوَيۡهِ
اپنے والدین کو
عَلَى
پر
ٱلۡعَرۡشِ
تخت
وَخَرُّواۡ
اور وہ سب گرپڑے
لَهُۥ
اس کے لئے
سُجَّدًا‌ۖ
سجدہ کرتے ہوئے
وَقَالَ
اور کہا
يَـٰٓأَبَتِ
اے میرے ابا جان
هَـٰذَا
یہ
تَأۡوِيلُ
تعبیر ہے
رُءۡيَـٰىَ
میرے خواب کی
مِن
سے
قَبۡلُ
جو پہلے (سے) تھا
قَدۡ
تحقیق
جَعَلَهَا
بنادیا اس کو
رَبِّى
میرے رب نے
حَقًّا‌ۖ
سچا
وَقَدۡ
اور تحقیق
أَحۡسَنَ
اسنے احسان کیا
بِىٓ
میرے ساتھ
إِذۡ
جب
أَخۡرَجَنِى
اس نے نکالا مجھ کو
مِنَ
سے
ٱلسِّجۡنِ
قید خانے
وَجَآءَ
اور لے آیا
بِكُم
تم کو
مِّنَ
سے
ٱلۡبَدۡوِ
جنگل
مِنۢ
سے
بَعۡدِ
اس کے بعد
أَن
کہ
نَّزَغَ
وسوسہ
ٱلشَّيۡطَـٰنُ
شیطان نے
بَيۡنِى
میرے درمیان
وَبَيۡنَ
اور درمیان
إِخۡوَتِىٓ‌ۚ
میرے بھائیوں کے
إِنَّ
بیشک
رَبِّى
میرا رب
لَطِيفٌ
باریک بین ہے
لِّمَا
واسطے اس کے
يَشَآءُ‌ۚ
جو وہ چاہتا ہے
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
هُوَ
وہ
ٱلۡعَلِيمُ
علم والا ہے،
ٱلۡحَكِيمُ
حکمت والا ہے
١٠٠
اور آپ نے اپنے والدین کو اونچے تخت پر بٹھایا اور وہ سب کے سب یوسف کے سامنے سجدے میں گرگئے اور یوسف نے کہا : ابا جان ! یہ ہے تعبیر اس خواب کی جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا میرے رب نے اس کو سچا کر دکھایا اور اس نے مجھ پر بہت احسان کیا جب مجھے قیدخانے سے نکلوایا اور آپ لوگوں کو (یہاں) لے آیا صحرا سے اس کے بعد کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان دشمنی ڈال دی تھی یقیناً میرا رب غیر محسوس طور پر تدبیر کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ یقیناً وہی ہے ہر شے کا علم رکھنے والا حکمت والا
12:101
۞رَبِّ
اے میرے رب
قَدۡ
تحقیق
ءَاتَيۡتَنِى
دیا تو نے مجھ کو
مِنَ
میں سے
ٱلۡمُلۡكِ
بادشاہت
وَعَلَّمۡتَنِى
اور سکھایا تو نے مجھ کو
مِن
سے
تَأۡوِيلِ
تعبیر میں (سے)
ٱلۡأَحَادِيثِ‌ۚ
خوابوں کی
فَاطِرَ
پیدا کرنے والے
ٱلسَّمَـٰوٰتِ
آسمانوں
وَٱلۡأَرۡضِ
اور زمین کے
أَنتَ
تو میرا
وَلِىِّۦ
دوست ہے
فِى
میں
ٱلدُّنۡيَا
دنیا
وَٱلۡأَخِرَةِ‌ۖ
اور آخرت میں
تَوَفَّنِى
تو فوت کر مجھ کو
مُسۡلِمًا
اسلام کی حالت میں
وَأَلۡحِقۡنِى
اور ملا دے مجھ کو
بِٱلصَّـٰلِحِينَ
صالح لوگوں کے ساتھ
١٠١
اے میرے رب ! تو نے مجھے حکومت بھی عطا کی ہے اور مجھے خوابوں کی تعبیر (یا معاملہ فہمی) کا علم بھی سکھایا ہے اے وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے توُ ہی میرا کارساز ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی مجھے وفات دیجیو فرمانبرداری کی حالت میں اور مجھے شامل کر دیجیو اپنے صالح بندوں میں
12:102
ذٰلِكَ
یہ
مِنۡ
میں سے ہے
أَنۢبَآءِ
خبروں
ٱلۡغَيۡبِ
غیب کی
نُوحِيهِ
ہم وحی کرتے ہیں اس کو
إِلَيۡكَ‌ۖ
آپ کی طرف
وَمَا
اور نہ تھے
كُنتَ
آپ
لَدَيۡهِمۡ
ان کے پاس
إِذۡ
جب
أَجۡمَعُوٓاۡ
اتفاق کیا انہوں نے
أَمۡرَهُمۡ
اپنے معاملے پر
وَهُمۡ
اور وہ
يَمۡكُرُونَ
چالیں چل رہے تھے
١٠٢
یہ ہے غیب کی خبروں میں سے جو ہم وحی کرتے ہیں (اے محمد) آپ کی طرف اور آپ ان کے پاس موجود نہیں تھے جب انہوں نے اتفاقِ رائے کیا تھا اپنے معاملے پر اور جب وہ لوگ سازش کر رہے تھے
12:103
وَمَآ
اور نہیں
أَكۡثَرُ
اکثر
ٱلنَّاسِ
لوگ
وَلَوۡ
خواہ تم
حَرَصۡتَ
حریص ہو
بِمُؤۡمِنِينَ
ایمان لانے والے
١٠٣
اور بہت سے لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں چاہے آپ کتنی ہی خواہش رکھیں
12:104
وَمَا
اور نہیں
تَسۡــَٔلُهُمۡ
تم سوال کرتے ان سے
عَلَيۡهِ
اس پر
مِنۡ
کسی
أَجۡرٍ‌ۚ
اجر کا
إِنۡ
نہیں ہے
هُوَ
وہ
إِلَّا
مگر
ذِكۡرٌ
ایک ذکر
لِّلۡعَـٰلَمِينَ
سارے جہان والوں کے لئے
١٠٤
اور (اے نبی !) آپ اس پر ان سے کوئی اجر تو نہیں مانگ رہے یہ (قرآن) تو تمام جہان والوں کے لیے ایک یاد دہانی ہے
12:105
وَكَأَيِّن
اور کتنی ہی
مِّنۡ
میں سے
ءَايَةٍ
نشانیوں
فِى
میں
ٱلسَّمَـٰوٰتِ
آسمانوں
وَٱلۡأَرۡضِ
اور زمین (میں)
يَمُرُّونَ
وہ گزرتے رہتے ہیں
عَلَيۡهَا
ان پر
وَهُمۡ
اور وہ
عَنۡهَا
ان سے
مُعۡرِضُونَ
منہ موڑنے والے ہیں
١٠٥
اور کتنی ہی نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں جن پر سے یہ گزرتے رہتے ہیں لیکن یہ ان سے اعراض ہی کرتے ہیں
12:106
وَمَا
اور نہیں
يُؤۡمِنُ
ایمان لاتے
أَكۡثَرُهُم
ان میں سے اکثر
بِٱللَّهِ
اللہ کے ساتھ
إِلَّا
مگر
وَهُم
اور وہ
مُّشۡرِكُونَ
شرک کرنے والے ہوتے ہیں
١٠٦
اور ان میں اکثر لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے مگر اس طرح کہ (کسی نہ کسی نوع کا) شرک بھی کرتے ہیں
12:107
أَفَأَمِنُوٓاۡ
کیا بھلا وہ بےخوف ہوگئے/ امن میں آگئے
أَن
کہ
تَأۡتِيَهُمۡ
آئے ان کے پاس
غَـٰشِيَةٌ
ایک ڈھانپ لینے والی
مِّنۡ
سے
عَذَابِ
عذاب میں (سے)
ٱللَّهِ
اللہ کے
أَوۡ
یا
تَأۡتِيَهُمُ
آئے ان کے پاس
ٱلسَّاعَةُ
قیامت کی گھڑی
بَغۡتَةً
اچانک
وَهُمۡ
اور وہ
لَا
نہ
يَشۡعُرُونَ
شعور رکھتے ہوں
١٠٧
کیا وہ اس سے بےخوف ہوچکے ہیں کہ آدھمکے ان پر ڈھانپ لینے والی آفت اللہ کے عذاب کی یا (ان کو یہ ڈر بھی نہیں رہا کہ) آجائے ان پر قیامت اچانک اور انہیں اس کا احساس تک نہ ہو
12:108
قُلۡ
کہہ دیجئے
هَـٰذِهِۦ
یہ
سَبِيلِىٓ
میرا راستہ ہے
أَدۡعُوٓاۡ
میں بلاتا ہوں
إِلَى
طرف
ٱللَّهِ‌ۚ
اللہ کی
عَلَىٰ
کے ساتھ
بَصِيرَةٍ
بصیرت
أَنَاۡ
میں
وَمَنِ
اور جو کوئی
ٱتَّبَعَنِى‌ۖ
پیروی کرے میری
وَسُبۡحَـٰنَ
اور پاک ہے
ٱللَّهِ
اللہ
وَمَآ
اور نہیں
أَنَاۡ
میں
مِنَ
میں سے
ٱلۡمُشۡرِكِينَ
شرک کرنے والوں
١٠٨
(اے نبی !) آپ کہہ دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ میں بھی اور وہ لوگ بھی جنہوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ پاک ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں
12:109
وَمَآ
اور نہیں
أَرۡسَلۡنَا
بھیجا ہم نے
مِن
آپ سے
قَبۡلِكَ
پہلے
إِلَّا
مگر
رِجَالاً
مردوں کو
نُّوحِىٓ
ہم وحی کرتے تھے
إِلَيۡهِم
ان کی طرف
مِّنۡ
میں سے
أَهۡلِ
والوں
ٱلۡقُرَىٰٓ‌ۗ
بستی
أَفَلَمۡ
کیا پھر نہیں
يَسِيرُواۡ
وہ چلے پھرے
فِى
میں
ٱلۡأَرۡضِ
زمین
فَيَنظُرُواۡ
تو وہ دیکھتے
كَيۡفَ
کس طرح
كَانَ
ہوا
عَـٰقِبَةُ
انجام
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کا
مِن
ان سے
قَبۡلِهِمۡ‌ۗ
پہلے
وَلَدَارُ
اور البتہ گھر
ٱلۡأَخِرَةِ
آخرت کا
خَيۡرٌ
بہتر ہے
لِّلَّذِينَ
ان لوگوں کے لئے
ٱتَّقَوۡاۡ‌ۗ
جو تقویٰ اختیار کریں
أَفَلَا
کیا تم
تَعۡقِلُونَ
عقل سے کام نہیں لیتے ہو
١٠٩
اور (اے نبی !) ہم نہیں بھیجتے رہے آپ سے پہلے (رسول بنا کر) مگر مردوں ہی کو بستیوں والوں میں سے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے تو کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ کی روش اختیار کریں۔ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے
12:110
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
ٱسۡتَيۡــَٔسَ
مایوس ہوگئے
ٱلرُّسُلُ
رسول
وَظَنُّوٓاۡ
اور لوگوں نے سمجھا
أَنَّهُمۡ
کہ بیشک وہ
قَدۡ
تحقیق
كُذِبُواۡ
وہ جھوٹ بولے گئے
جَآءَهُمۡ
آئی ان کے پاس
نَصۡرُنَا
مدد ہماری
فَنُجِّىَ
تو بچالیا گیا
مَن
جس کو
نَّشَآءُ‌ۖ
ہم نے چاہا
وَلَا
اور نہیں
يُرَدُّ
پھیرا جاتا
بَأۡسُنَا
عذاب ہمارا
عَنِ
سے
ٱلۡقَوۡمِ
قوم
ٱلۡمُجۡرِمِينَ
مجرم
١١٠
یہاں تک کہ جب رسول مایوس ہوگئے اور لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ ان سے جھوٹ بولا گیا تھا تو ان کو ہماری مدد آپہنچی پس بچالیا گیا ان کو جن کو ہم نے چاہا۔ اور ہمارا عذاب پھیرا نہیں جاسکتا مجرم قوم سے
12:111
لَقَدۡ
البتہ تحقیق
كَانَ
ہے
فِى
میں
قَصَصِهِمۡ
ان کے قصوں
عِبۡرَةٌ
عبرت
لِّأُوۡلِى
والوں کے لئے
ٱلۡأَلۡبَـٰبِ‌ۗ
عقل
مَا
نہیں
كَانَ
ہے
حَدِيثًا
بات
يُفۡتَرَىٰ
جو گھڑ لی
وَلَـٰكِن
لیکن
تَصۡدِيقَ
تصدیق ہے
ٱلَّذِى
اس چیز کی
بَيۡنَ
پہلے ہے
يَدَيۡهِ
جو اس سے
وَتَفۡصِيلَ
اور تفصیل
كُلِّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز کی
وَهُدًى
اور ہدایت
وَرَحۡمَةً
اور رحمت ہے
لِّقَوۡمٍ
اس قوم کے لئے
يُؤۡمِنُونَ
جو ایمان لاتی ہو
١١١
یقیناً ان (سابقہ اقوام) کے واقعات میں ہوش مند لوگوں کے لیے عبرت ہے یہ (قرآن) ایسی بات نہیں جسے گھڑ لیا گیا ہو بلکہ یہ تو تصدیق (کرتے ہوئے آیا) ہے اس کی جو اس سے پہلے موجود ہے اور (اس میں) تفصیل ہے ہرچیز کی اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو (اس پر) ایمان لاتے ہیں
Virtues & Hadith

Benefits of Surah Yusuf

Discover authentic Prophetic Hadiths and spiritual virtues associated with reciting Surah Yusuf.

Reward for Every Recited Letter

The Prophet ﷺ said: 'Whoever recites a letter from the Book of Allah will receive one good deed, and ten like it. I do not say Alif-Lam-Mim is one letter, but Alif is a letter, Lam is a letter, and Mim is a letter.' (Jami' at-Tirmidhi 2910).

Ref: Jami' at-Tirmidhi 2910

Reflecting Upon the Divine Guidance

Every Surah of the Noble Quran offers timeless guidance, spiritual solace, and light for daily life. Reflecting upon its verses deepens faith and draws one closer to Allah.

FAQ

Frequently Asked Questions About Surah Yusuf

How many verses are in Surah Yusuf?

Surah Yusuf is one of the 114 chapters of the Noble Quran. You can explore its full Arabic text, verses count, revelation place, and translations above.

Can I listen to audio recitation of Surah Yusuf?

Yes, Share For Sadqah provides crystal-clear audio recitations with verse-by-verse synchronization, tajweed highlighting, and Urdu audio translation.